ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے باہر رہنے پاکستان کی کوششیں ناکام

   

پیرس، 21 فروری (سیاست ڈاٹ کام) دہشت گردی کی پناہ گاہ پاکستان کی تمام چالیں ایک مرتبہ ناکام ثابت ہوئیں۔ عالمی دہشت گردی فائننسنگ پر نظررکھنے والی باڈی فائننشیل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف)نے دہشت گردوں کے مالی اعانت پر قانو پانے میں ناکام رہنے کی وجہ سے پاکستان کو اگلے چار ماہ تک مشتبہ فہرست (گرے لسٹ) میں ہی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ایف اے ٹی ایف نے ساتھ ہی پاکستان کو وارننگ دی ہے کہ اگر وہ دہشت گردی سمیت 25 پوائنٹ پر مشتمل ایکشن پلان کو پورا نہیں کرتا ہے تو اسے ‘سیاہ فہرست’’ (بلیک لسٹ) میں ڈال دیا جائے گا۔یہ فیصلہ ایف اے ٹی ایف کے بین الاقوامی تعاون جائزہ گروپ (آئی سی آر جی) کی میٹنگ میں کیا گیا۔ یہ میٹنگ پیرس میں مکمل سیشن کے دوران ہوئی۔ میٹنگ میں ڈپلومیٹک اور ایف اے ٹی ایف کے اراکین نے اس بات پر توجہ دینے کو کہا ہے کہ کس طرح پاکستان ایف اے ٹی ایف کی تکنیکی عمل پر سیاست کرنے کی کوشش کررہاہے ۔ ڈپلومیٹک ذرائع نے بتایا کہ پاکستان جون تک ‘مشتبہ فہرست’ میں برقرار رہے گا۔ایف اے ٹی ایف نے اپنے اراکین سے پاکستان کے تمام کاروباری رشتے اور مالی لین دین پر نظررکھنے کو بھی کہا ہے ۔ پاکستان کی عمران خان کی قیادت والی حکومت نے اپنی عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ فروری میں ایف اے ٹی ایف کی ‘مشتبہ فہرست’ سے باہر نکل جائے گا۔ چین، ملائشیا اور ترکی کی مدد سے پاکستان ‘بلیک لسٹ’ میں جانے سے تو بچ گیا لیکن اسے ‘مشتبہ فہرست’ سے بچنے کے لئے 13 ممالک کی حمایت ضروری تھی جو اسے نہیں مل سکی۔پاکستان نے ‘گرے لسٹ’ سے بچنے کے لئے پورا زور لگایا اور کئی ممالک نے اس کی حمایت بھی کی۔ لیکن تکنیکی گراؤنڈ اور ثبوتوں کی بنیاد پر ایف اے ٹی ایف نے پایا کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے باہر نہیں رکھا جاسکتا ہے ۔ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے بچنے کے لئے پاکستان نے اپنی جانب سے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس نے لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ سعید کو کچھ دن پہلے گرفتار کیا تھا۔