ایل آر ایس اسکیم پر ہائی کورٹ کی تنقید، حکومت سے وضاحت طلب

,

   

کس قانون کے تحت حکومت کو اختیار، مفاد عامہ کی درخواستوں کی سماعت

حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے غیر منظورہ لے آؤٹس کو باقاعدہ بنانے سے متعلق حکومت کے فیصلہ پر تنقید کی ہے ۔ حکومت نے جی او 131 کے ذریعہ لے آؤٹس کو باقاعدہ بنانے کی اسکیم کا اعلان کیا۔ چیف جسٹس راگھویندر سنگھ چوہان اور جسٹس بی وجئے سین ریڈی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے حکومت سے سوال کیا کہ کس قانون کے تحت غیر مجاز لے آؤٹس کو باقاعدہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومت نے کس قانون کے تحت اس سلسلہ میں جی او جاری کیا۔ چیف جسٹس نے حال ہی میں حیدرآباد اور ورنگل شہروں میں سیلاب کی بڑے پیمانہ پر تباہی اور مختلف کالونیوں کے متاثر ہونے کا حوالہ دیا اور کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کی جانب سے جی او کی اجرائی کا طریقہ کار درست نہیں ہے ۔ اس اسکیم سے لے آؤٹ ڈیولپرس اور قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ عدالت نے کہا کہ ایل آر ایس اسکیم ہر پانچ یا چھ سال میں ایک بار متعارف کی جاتی ہے ۔ 2008 ء اور 2015 ء کے بعد 2020 ء میں اسکیم متعارف کی گئی ۔ چیف جسٹس نے ایڈوکیٹ جنرل سے سوال کیا کہ جب حکومت خود ایل آر ایس اور بی پی ایس اسکیم کے ذریعہ غیر مجاز تعمیرات اور لے آؤٹس کو باقاعدہ بنارہی ہے تو کس طرح ڈیولپرس اور خریداروں کو قواعد کی پابندی کیلئے مجبور کیا جاسکتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جی او 131 کے تحت تمام غیر منظورہ لے آؤٹس کو باقاعدہ بنایا جارہا ہے جبکہ ان میں پارکس ، اسکولس اور دیگر سہولتیں دستیاب نہیں ہیں۔ انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ ان سہولتوں کے بغیر کس طرح لے آؤٹس کو باقاعدہ بنایا جاسکتا ہے ۔ عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل کو درخواست گزاروں کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کی وضاحت کرتے ہوئے ہر ایک درخواست کیلئے علحدہ حلفنامہ داخل کرنے کی ہدایت دی۔ واضح رہے کہ ایل آر ایس اسکیم کو چیلنج کرتے ہوئے پانچ علحدہ مفاد عامہ کی درخواستیں داخل کی گئی ہیں۔ مقدمہ کی آئندہ سماعت 12 نومبر کو ہوگی۔ فورم فار گڈ گورننس کے پدمنابھ ریڈی اور کانگریس رکن پارلیمنٹ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی درخواست گزاروں میں شامل ہیں۔