پارٹی قائدین کو چیف منسٹر کا تیقن، مختلف انتخابات کے پیش نظر عوام کو خوش کرنے کی کوشش
حیدرآباد۔ ریاست میں مختلف انتخابات کے پیش نظر عوامی نمائندوں کے دباؤ کو دیکھتے ہوئے چیف منسٹر کے سی آر نے ایل آر ایس اسکیم کی فیس میں مزید رعایتوں کا تیقن دیا ہے۔ دوباک اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ کے علاوہ مجالس مقامی اور گریجویٹ زمرہ کی کونسل کی 3 نشستوں کے انتخابات قریب ہیں۔ اس کے علاوہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات ڈسمبر یا جنوری میں منعقد ہوسکتے ہیں۔ انتخابات کے موقع پر رائے دہندوں کو ٹی آر ایس کے حق میں ہموار کرنے کیلئے پارٹی قائدین نے چیف منسٹر سے درخواست کی کہ موجودہ ایل آر ایس اسکیم میں مزید رعایتوں کا اعلان کیا جائے۔ حکومت نے گذشتہ ماہ ایل آر ایس اسکیم کے سلاب میں اضافہ کرتے ہوئے بعض رعایتوں کا اعلان کیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹی آر ایس کے عوامی نمائندے مزید رعایتوں بالخصوص لے آؤٹ ریگولرائزیشن فیس میں کمی کی درخواست کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شہری اور دیہی علاقوں میں عوام کی جانب سے یہ مطالبہ شدت سے پیش کیا جارہا ہے۔ قائدین کا کہنا ہے کہ عوام کا احساس ہے کہ موجودہ فیس ان پر کافی بوجھ ہے لہذا اس میں مزید تخفیف کی جانی چاہیئے۔ حکومت نے 18 ستمبر کو ترمیمی جی او جاری کرتے ہوئے بعض رعایتوں کا اعلان کیا تھا۔ چیف منسٹر کو یقین ہے کہ پارٹی نہ صرف دوباک بلکہ کونسل کی تینوں نشستوں پر باآسانی کامیابی حاصل کرے گی اور گریٹر حیدرآباد میں 100 سے زائد نشستوں پر ٹی آر ایس کامیاب ہوگی۔ چیف منسٹر نے گریجویٹ حلقوں کے بارے میں قائدین کو اوور کانفڈینس سے بچنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ سرکاری ملازمین، نوجوانوں اور خاص طور پر بیروزگار نوجوانوں کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ اپوزیشن مذکورہ افراد کو حکومت کے خلاف متحد کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ حیدرآباد، رنگاریڈی اور محبوب نگر اضلاع پر مشتمل کونسل کی نشست بی جے پی کے قبضہ میں ہے جبکہ نلگنڈہ ، ورنگل اور کھمم کی نشست ٹی آر ایس کے پاس ہے۔ الیکشن کمیشن نے ابھی تک انتخابی شیڈول جاری نہیں کیا جبکہ دونوں ارکان کونسل کی میعاد مارچ 2021 میں ختم ہوگی۔ ایل آر ایس اسکیم کے اعلان کے باوجود ریاست بھر میں غیر معمولی ردِعمل نہیں دیکھا گیا اور تاحال 7 لاکھ 55 ہزار 950 درخواستیں داخل ہوئی ہیں اور فیس کے طور پر 76.86 کروڑ جمع کئے گئے۔