ایل آر ایس کی تکمیل کے بعد جائیدادوں کی قیمتوں میں اضافہ

   

حکومت سے قیمتوں کا تعین ، مضافات کے وینچرس کے پلاٹس رجسٹریشن فیس مقرر کیے جانے کا امکان
حیدرآباد۔ تلنگانہ حکومت کی جانب سے ایل آر ایس کے عمل کی تکمیل کے بعد جائیدادو ںکی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا جائے گا اورحکومت کی جانب سے امکان ہے کہ اراضیات کی سرکاری قیمتو ں میں بھی اضافہ کا فیصلہ کیا جائے ۔ شہر حیدرآباد کے علاوہ ریاست تلنگانہ کے تمام اضلاع میں حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کے تحت ایل آر ایس اسکیم کا آغاز کیا گیا ہے جس کے ذریعہ غیر مجاز لے آؤٹس میں خریدی گئی جائیدادوں کو باقاعدہ بنایا جارہا ہے۔ حکومت کی جانب سے تمام اراضیات کو باقاعدہ بنائے جانے کے بعد اراضیات کی قیمتوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے ان میں 10تا50 فیصد کا اضافہ کیا جاسکتا ہے ۔ حکومت کی جانب سے اراضیات کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد اگر رجسٹریشن فیس 7.5 فیصد ہی برقرار رکھی جاتی ہے تو ایسی صورت میں عوام کو رجسٹریشن کے لئے بھی بھاری رقومات ادا کرنی پڑیں گی لیکن محکمہ مال کے عہدیدارو ںکے مطابق حکومت کی جانب سے اراضیات کی قیمتوں میں اضافہ کے فیصلہ کے بعد رجسٹریشن کی فیس میں کمی کی بھی سفارش کی گئی ہے لیکن ریاستی حکومت اور کابینہ کو اس بات کا اختیار حاصل ہے کہ وہ موجودہ فیس کو برقرار رکھے یا اس میں کمی کرے ۔حکومت کی جانب سے ریاست میں موجود اراضیات جو کہ غیر منظورہ لے آؤٹس میں موجود ہیں ان کو باقاعدہ بنانے کے اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے اس فیصلہ سے ریاست بھر میں موجود وہ تمام اراضیات جو غیر مجاز لے آؤٹس میں موجود ہیں ان کے مالکین کی جانب سے باقاعدہ بنائے جانے کی توقع ہے اور ایسا ہوجانے کی صورت میں جائیدادوں کی قیمتوں میں از خود اضافہ ہوجائے گا اور جب حکومت کی جانب سے ان اراضیات و جائیدادوں کی قیمت میں اضافہ کا فیصلہ کیا جائے گا تو ایسی صورت میں جائیدادوں کی قیمتوں میں کافی اچھال ریکارڈ کیا جائے گا۔ محکمہ مال کے عہدیداروں کے مطابق ریاست تلنگانہ میں شہر حیدرآباد ‘

رنگاریڈی ‘ میڑچل اور ریاست کے دیگر شہری اضلاع جہاں پر وینچر تیار کرتے ہوئے پلاٹس فروخت کئے جا رہے ہیں ان علاقوں میں جائیدادوں کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا جاسکتا ہے اور حکومت کی جانب سے تمام علاقوں کے سروے کے ذریعہ اراضیات کی سرکاری قیمتوں کا تعین کئے جانے کا امکان ہے اس کے بعد ہی محکمہ مال اور حکومت کی جانب سے رجسٹریشن کی فیس کے متعلق قطعی فیصلہ کیا جائے گا۔