تلنگانہ ، آندھرا پردیش اور ٹاملناڈو کوعدالت عظمیٰ کی نوٹس
حیدرآباد۔تلنگانہ حکومت کی لے آوٹ ریگولرائزیشن اسکیم (ایل آر ایس) کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست داخل کی گئی ۔تلنگانہ کے جنگاوں سے تعلق رکھنے والے جے ساگر راو نامی شخص نے مفاد عامہ کی اپنی درخواست میں الزام لگایا کہ تلنگانہ، آندھرا پردیش اور ٹاملناڈو میں مناسب تجزیہ کے بغیر لے آؤٹ ریگولرائزیشن اسکیم پر عمل کیاجارہا ہے ۔جسٹس ایل ناگیشور راو کی زیرقیادت سپریم کورٹ کی ایک سہ رکنی بنچ جس نے اس معاملہ کی سماعت کی،تلنگانہ، آندھرا پردیش اور ٹاملناڈو کو نوٹس جاری کی ہے۔درخواست گذار نے یہ دعوی کیا کہ ایل آر ایس کے ذریعہ غیر مجاز قبضہ کرنے والے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس،عہدیداروں کو اس اسکیم کے ذریعہ بے قاعدگیوں کا موقع ہاتھ لگا ہے ۔درخواست گذار نے یہ بھی کہاکہ غیر مجاز قبضوں کی وجہ سے ہی کئی مسائل پیداہوئے اور حیدرآباد،چینائی میں سیلاب کی صورتحال پیداہوئی ہے۔درخواست گذار جے ساگر راؤ نے عدالت سے خواہش کی کہ غیر مجاز لے آوٹس کی اجازت دینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے ۔تلنگانہ میں لے آؤٹ ریگولرائزیشن اسکیم کو لیکر عوام میں بھی کئی خدشات پائے جاتے ہیں۔ اس اسکیم کے خلاف مقامی عدالت میں بھی درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔ایل آر ایس اسکیم کو لیکر رئیل اسٹیٹ کے تاجرین بھی تشویش میں مبتلاء ہیں۔حکومت نے اس پر عمل آوری کیلئے پورٹل کابھی آغاز کیا ہے۔
