ایل او سی پر گولہ باری، جانی نقصان کی اطلاع نہیں

   

جموں، 10 جون (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان اور پاکستان میں کورونا وائرس کے متاثرین میں غیر معمولی اضافے کے باوجود جموں وکشمیر میں ان دونوں ممالک کو منقسم کرنے والی لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور بین الاقوامی سرحد پر طرفین کی افواج کے درمیان جاری گولہ باری کا تبادلہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے ۔ضلع راجوری کے نوشہرہ سیکٹر میں ایل او سی پر چہارشنبہ کی صبح ہند و پاک کی افواج کے درمیان شدید فائرنگ اور گولہ باری کا تبادلہ ہوا تاہم کسی بھی جانب کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔ایک دفاعی ترجمان نے بتایا کہ راجوری کے نوشہرہ سیکٹر میں ایل او سی پر چہارشنبہ کی صبح قریب ساڑھے سات بجے پاکستانی فوج نے ہندوستانی چوکیوں کو نشانہ بنا کر بلا اشتعال شدید فائرنگ اور مارٹر شلنگ شروع کردی۔انہوں نے کہا کہ وہاں تعینات بھارتی فوجی اہکار اس حملے کا بھر جواب دے رہی ہے تاہم فی الوقت کسی بھی جانب کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔

پاکستان میں ہندوستانی سفارتکار کی طلبی
اس دوران اسلام آباد نے سینئر ہندوستانی سفارت کار کو آج طلب کرتے ہوئے پاکستان نے ایل او سی کے پاس ’’انڈین فورسیس‘‘ کی جانب سے سیز فائر کی مبینہ خلاف ورزیوں پر اپنا احتجاج درج کرایا۔ اسلام آباد میں دفتر خارجہ نے کہا کہ 9 جون کو جند روڈ سیکٹر میں انڈیا کی بلااشتعال فائرنگ کے سبب 4 شہری زخمی ہوگئے۔ ہندوستانی فورسیس آرٹیلری اور دیگر ہتھیاروں کے ذریعہ شہری آبادی والے علاقوں کو مسلسل نشانہ بنارہی ہے۔
دفترخارجہ نے دعویٰ کیا کہ رواں سال ابھی تک 1296 خلاف ورزیاں ہوئیں جن میں 7 اموات پیش آئیں۔