ایل آر ایس اور بی آر ایس اسکیمات سے عوامی ہراسانی پر ریاست کے خزانہ پر منفی اثر

   

اسکیمات سے سرکاری خزانہ کو فائدہ پہونچانے کی طرف واضح اشارہ، رجسٹریشن کے رجحان میں بھی کمی کا امکان

حیدرآباد: حکومت کی جانب سے شروع کی جانے والی ایل آر ایس اسکیم سے حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہوگا یا کمی واقع ہوگی ! ریاستی حکومت کی جانب سے اراضیات کو باقاعدہ بنانے کی اسکیم کے سلسلہ میں واضح طور پر یہ نظر آرہا ہے کہ حکومت کی جانب سے آمدنی میں اضافہ اور اراضیات کو باقاعدہ بنانے کے لئے اس منصوبہ کو روشناس کروایا گیا ہے اور حکومت کے علاوہ کئی گوشوں سے اس کے مثبت پہلوؤں کو پیش کیا جانے لگا ہے اور کہا جار ہاہے کہ حکومت کے اس اقدام سے ریاست تلنگانہ کی اراضیات باقاعدہ ہوجائیں گی اور غیر مجاز لے آؤٹس میں جائیداد کی خریداری کا رجحان ختم ہوجائے گا لیکن اس کے منفی پہلو پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کررہے ہیں جبکہ منتخبہ عوامی نمائندوں کا بھی یہ احساس ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے ایل آر ایس اور بی آر ایس کے نام پر عوام کو ہراساں کیاجائے گا تو اس کے ریاست کے خزانہ پر منفی اثرات پڑسکتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے غیر مجاز لے آؤٹس اور بغیر اجازت کے تعمیر کی جانے والی عمارتوں کی خرید و فروخت پر امتناع عائد کیا جاچکا ہے اور ان کے رجسٹریشن نہیں کئے جا رہے ہیں ۔ منتخبہ عوامی نمائندوں کا احساس ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے اس پر سختی سے عمل کیاجاتا ہے تو ایسی صورت میں سرکاری خزانہ کو طویل مدتی نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ رہائشی اغراض و مقاصد کے لئے خریدی جانے والی جائیدادوں کے رجسٹریشن کا رجحان گنجان آبادیوں میں 20 برس قبل شروع ہوا ہے جبکہ اس سے قبل جائیدادوں اور مکانات کی نوٹری کی بنیاد پر خرید و فروخت ہوا کرتی تھی لیکن رجسٹریشن کے رجحان میں اضافہ سے ریاستی حکومت کے محکمہ مال کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے اور اگر اب حکومت کی جانب سے بغیر اجازت تعمیرات کی فروخت پر عائد کی گئی پابندی کو برقرار رکھنے کے علاوہ اس پر سختی سے عمل کرتی ہے تو ایسی صورت میں رجسٹریشن کے رجحان میں کمی واقع ہونے کا خدشہ ہے اور گنجان آبادیوں میں مکانات کی خرید و فروخت کیلئے دوبارہ نوٹری کے دستاویزات کی تیاری کا عمل شروع ہوسکتا ہے ۔ عام طور پر شہری جو جائیداد رہائش کی غرض سے خریدتے ہیں ان جائیدادوں کو فوری قبضہ کے ساتھ حاصل کیا جاتا ہے اور نوٹری کے دستاویزات کے علاوہ قبضہ حاصل ہوجانے کے بعد جائیداد مالکین کو کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوتا۔ بتایاجاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے ایل آر ایس کا آغاز کردیا گیا ہے اور اب تک ایل آر ایس کے لئے حکومت کو جملہ 7لاکھ 55ہزار950 درخواستیں موصول ہوچکی ہیں اور ان میں جملہ 1لاکھ 54ہزار886 درخواستیں ریاست تلنگانہ کے بلدی کارپوریشنس سے موصول ہوئی ہیں اور 3لاکھ 4ہزار 782درخواستیں بلدیات سے موصول ہوئی ہیں جبکہ 2لاکھ 96ہزار 282 درخواستیں گرام پنچایت کے حدود میں موصول ہوئی ہیں لیکن بی آر ایس کے لئے حکومت کی جانب سے تاحال اسکیم کا اعلان نہیں کیا گیا ہے ۔