ایل اینڈ ٹی کمپنی میٹرو ریل کی اپنی حصہ داری فروخت کررہی ہے ؟

   

کورونا بحران سے 2 ہزار کروڑ کا نقصان ، مسافروں کی تعداد 4.5 لاکھ سے گھٹ کر ایک لاکھ تک محدود
حیدرآباد ۔ 3 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : کئی اندیشوں اور امیدوں کے درمیان شروع ہونے والا حیدرآباد میٹرو ریل پراجکٹ کورونا بحران کے دوران خسارے کا شکار ہوگیا ۔ مسلسل لاک ڈاؤن ، سخت قواعد ، ورک فرم ہوم کی وجہ سے اپنے نقصانات پر قابو پانے میں ناکام ہے جس کی وجہ سے حیدرآباد میٹرو میں موجود اپنا ( شیئر ) حصہ دار کو فروخت کرنے کے لیے ایل اینڈ ٹی کی جانب سے منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔ پبلک ، پرائیوٹ پارٹنر شپ کے تحت دنیا کا سب سے بڑا حیدرآباد میٹرو ریل پراجکٹ ہے ۔ جو 71 کیلو میٹر پر مشتمل ہے ۔ جس کا تین راہداریوں کے ذریعہ بڑے پیمانے پر آغاز کیا گیا ہے ۔ ابتداء میں اندرون ایک سال روزانہ 4.50 لاکھ افراد اس سے سفر کررہے تھے ۔ لیکن کورونا بحران کی وجہ سے نفع میں چلنے والا حیدرآباد میٹرو ریل پراجکٹ خسارے کا شکار ہوگیا ۔ کورونا کی پہلی لہر سے 6 ماہ تک میٹرو ریل خدمات بند رہی ۔ بعد میں سخت قواعد کے درمیان ستمبر 2020 میں میٹرو ریل کی خدمات کا آغاز ہوا ۔ آہستہ آہستہ عوام میٹرو ریل میں سفر کرنے کو ترجیح دے رہے تھے ۔ مئی 2021 میں کورونا کی دوسری لہر سے دوبارہ میٹرو ریل کی خدمات معطل ہوگئی جس سے ایک سال کے دوران میٹرو ریل کو 1766 کروڑ روپئے کا نقصان پہونچا اس سے قبل میٹرو ریل کو 282 کروڑ روپئے کا نقصان ہوا ۔ اس طرح میٹرو ریل کو جملہ 2000 کروڑ روپئے کا نقصان پہونچا ہے ۔ کورونا خوف کی وجہ بیشتر آئی ٹی کمپنیوں نے ورک فرم ہوم کو ترجیح دی ہے ۔ جس سے ملازمین گھروں تک محدود ہوگئے ۔ ریگولر میٹرو ریل نا چلنے کی وجہ سے عوام نے سفر کیلئے دوسرے ٹرانسپورٹ کو ترجیح دی ہے ۔ N

جس سے روزانہ 4.50 لاکھ سفر کرنے والے عوام کی تعداد گھٹ کر ایک لاکھ تک پہونچ گئی ۔ ایل اینڈ ٹی ادارے نے فائدہ مند ثابت نہ ہونے والے اداروں میں اپنی حصہ داری ( شیئر ) فروخت کردینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جس کے پیش نظر پنجاب کے پاور پراجکٹ کے ساتھ حیدرآباد میٹرو ریل پراجکٹ میں اپنے شیئر کو فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ باوثوق ذرائع سے اس کی اطلاع ملی ہے ۔ حیدرآباد میٹرو ریل میں 15 فیصد اپنی حصہ داری فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ایل اینڈ ٹی کے وائس پریسیڈنٹ ڈی کے سین نے بتایا کہ حیدرآباد میٹرو ریل کی حصہ داری خریدنے کے لیے گرین کو ادارے نے اپنی رضا مندی ظاہر کی ہے ۔ مگر گرین کو ادارے نے اس پر کوئی ردعمل کا اظہار نہیں کیا ۔ ایل اینڈ ٹی کو ریاستی حکومت سے منظوری حاصل کرنا ضروری ہے ۔ لیکن میٹرو عہدیداروں نے بتایا کہ ایل اینڈ ٹی سے اس سلسلے میں کوئی اطلاعات نہیں ملی ہے ۔۔ N