ایل بی نگر میں موسیٰ ندی کو بہتر بنانے کے بعد اس کے کنارے پر فضا مقام میں تبدیل ، گندگی کی وجہ دور رہنے والوں نے ناشتہ کیا

   


حیدرآباد :۔ ایل بی نگر میں موسیٰ ندی ، جو شہر میں ایک گندگی کا مقام ہوا کرتی تھی اور لوگ یہاں صحت و صفائی نہ ہونے کی وجہ اس مقام پر رکنے سے گریز کرتے تھے لیکن اب یہاں واکنگ اور سیکلنگ ٹرئیک اور گرینری کے ساتھ یہ ایک پر فضا مقام میں تبدیل ہوگئی ہے ۔ کئی دہوں بعد آخر کار موسیٰ ندی کو ترقی دی جارہی ہے اور اسے بہتر بنایا جارہا ہے کیوں کہ تاحال زیادہ تر پراجکٹس محض کاغذ پر تھے ۔ ایل بی زون سے گذرنے والی اس ندی کے قریب سے جانے سے کترانے والے لوگوں نے اسے بہتر بنانے کے بعد موسیٰ ریور فرنٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمٹیڈ (MRDCL) کے چیرمین ڈی سدھیر ریڈی کے ہمراہ موسیٰ ندی کے کناروں پر ناشتہ کیا ۔ اس مقام پر کوئی گیارہ محلہ جات کے لوگوں نے ناشتہ کیا ۔ اب تک 9.5 کیلو میٹر کے واکنگ اینڈ سیکلنگ ٹرئیک کی تعمیر کی گئی ہے ۔ 3.5 کلومیٹر کا واکنگ ٹرئیک کتہ پیٹ ، ناگول اسٹریچ پر بنایا گیا ہے ۔ جہاں لوگوں نے ناشتہ کیا ۔ 3.5 کلومیٹر واک وے کی تعمیر کے لیے 6 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ۔ مجموعی طور پر ، موسیٰ ندی پر 10 فلوٹنگ ٹراش بیرئیرس (FTBs) بھی مختلف مقامات بشمول باپو گھاٹ ، ناگول ، نیا پل اور چادر گھاٹ پر لگائے جائیں گے ۔ عہدیداروں کے مطابق موسیٰ ندی میں جلد ہی کشتی رانی ( بوٹنگ ) کا بھی آغاز ہوگا ۔ اور انہوں نے ندی میں کچرا ، ملبہ ڈالنے کے خلاف لوگوں کو انتباہ دیا ۔ ایل بی نگر کے رکن اسمبلی سدھیر ریڈی نے جنہوں نے موسیٰ کارپوریشن کے چیرمین کی حیثیت سے حال میں ایک سال مکمل کئے ہیں کہا کہ ’ 2022-23 تک کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے ویژن کے مطابق ہم موسیٰ ندی میں کشتی رانی شروع کرنے کی کوشش کریں گے ۔ اس کے لیے کام جنگی بنیادوں پر کئے جارہے ہیں ‘ ۔ انہوں نے کہا کہ ’ اگر شہری لوگوں کو موسیٰ ندی میں ملبہ یا کچہرا ڈالتے ہوئے دیکھیں تو وہ اس کی تصویر لے سکتے ہیں جس میں گاڑی کا نمبر نظر آتا ہو اور اس کی اطلاع ایم آر ڈی سی ایل کو دے سکتے ہیں ‘ ۔ اس جگہ پر ناشتہ کرنے والے ایم انیل نے کہا کہ وہ اس اسٹریچ پر جانے سے وہاں کی بدبو کی وجہ گریز کیا کرتے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بشمول کئی کمیوٹرس ایل بی نگر میں موسیٰ ندی کے قریب کی سڑکوں پر جانے سے وہاں کی بدبو اور ناقص صحت و صفائی کی وجہ گریز کیا کرتے تھے لیکن دہوں سے زیر التواء اس کو بہتر بنانے کے کاموں کو انجام دینا انہیں حیرت میں ڈال دیا ہے ‘ ۔ عہدیداروں کے مطابق تفصیلی پراجکٹ رپورٹ (DPR) کو اگست ۔ ستمبر تک قطعیت دی جائے گی ۔ ڈی پی آر کے مطابق موسیٰ ندی کے دونوں جانب 120 فیٹ سڑک بنائی جائے گی ۔ یہ سڑک گنڈی پیٹ اور ناگول کو مربوط کرے گی اور یہ موجود بریجس / فلائی اوورس سے بھی مربوط رہے گی اس طرح ٹریفک کے بہاؤ میں آسانی ہوگی ۔ ڈی پی آر کی تیاری سے قبل باپو گھاٹ تا باچارم ( حیات نگر منڈل ) 53 کلو میٹر اسٹریچ پر موسیٰ ندی کا ڈرون سروے کیا گیا ۔۔