بحریہ کی سکیورٹی میں اندورن2 یوم ممبئی یا کندلا بندر گاہ پہنچنے کا امکان
نئی دہلی ۔14؍مارچ ( ایجنسیز )گیاس کی سپلائی کے لیے ایک اہم پیش رفت کے طور پر ہندوستان کا دوسرا ایل پی جی بردار جہاز نندا دیوی آبنائے ہرمز کو کامیابی کے ساتھ عبور کر کے کھلے سمندر میں داخل ہو گیا ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق یہ پیش رفت خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کے باوجود ہندوستان کی توانائی کی کھیپ کو محفوظ طریقے سے منتقل کرنے کی کوششوں کا اہم مرحلہ ہے۔ذرائع کے مطابق اس وقت اس جہاز کو ہندوستانی بحریہ کی جانب سے سکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے اور بحریہ اس کے سفر کے اگلے مرحلے میں اسے ہندوستان تک بحفاظت پہنچانے کے لیے رہنمائی کرے گی۔ توقع ہے کہ یہ جہاز آئندہ دو دنوں کے اندر ہندوستان کی کسی بندرگاہ پر پہنچ جائے گا جبکہ ممبئی یا کندلا اس کے ممکنہ مقامات میں شامل ہیں۔اعلیٰ سرکاری ذرائع کے مطابق نندا دیوی پر 46 ہزار میٹرک ٹن سے زائد لیکویڈ پیٹرولیم گیس (LPG) لدی ہوئی ہے۔ یہ کارگو ہندوستان کی توانائی سپلائی چین کے لیے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے خاص طور پر ایسے وقت میں جب خلیجی خطے میں جاری علاقائی کشیدگی کے باعث بحری تجارت اور جہاز رانی متاثر ہوئی ہے۔اس سے قبل ہندوستان کا پہلا ایل پی جی جہاز شیوالک (Shivalik) بھی سفارتی مذاکرات کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے محفوظ راستہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ بعد میں یہ جہاز بھی کھلے سمندر میں داخل ہو کر ہندوستانی بحریہ کی نگرانی میں محفوظ طریقے سے آگے بڑھ رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں جہازوں کی نقل و حرکت پر ہندوستانی بحریہ مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے، تاکہ اس انتہائی حساس سمندری راستے سے ان کا سفر بغیر کسی خطرے کے مکمل ہو سکے۔اس سے قبل حکومتی حکام نے اشارہ دیا تھا کہ سفارتی سطح پر بات چیت مکمل ہونے کے بعد دو بھارتی ایل پی جی بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنا شروع کریں گے۔ اب جبکہ شیوالک اور نندا دیوی دونوں اس تنگ آبی گزرگاہ سے باہر نکل چکے ہیں حکام کو امید ہے کہ یہی عملی طریقہ کار دیگر جہازوں کیلئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ توانائی کی ترسیل میں کسی بڑے خلل سے بچا جا سکے۔یہ پیش رفت بھارت کے لیے خاصی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ ملک اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے خلیجی ممالک سے بڑی مقدار میں ایل پی جی درآمد کرتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت اس بات کی علامت ہے کہ ایک مؤثر نظام قائم کر لیا گیا ہے جس کے ذریعے اس اہم سمندری راستے سے ہندوستانی توانائی کی کھیپ کو محفوظ انداز میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔