ایل پی جی گیاس کی قلت ، حیدرآباد میں آٹوز کی طویل قطاریں

   

6 تا 8 گھنٹے انتظار کی زحمت، ہزاروں آٹو ڈرائیورس معاشی مسائل کا شکار

حیدرآباد ۔یکم اپریل (سیاست نیوز) مغربی ایشیاء میں جنگ کی صورتحال کے اثرات یوں تو دنیا بھر پر مرتب ہوئے ہیں لیکن ہندوستان منفی اثرات کے حقائق کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ مرکزی حکومت نے ایک مرحلہ پر عوام کو کورونا بحران کی صورتحال جیسے حالات کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہنے کا مشورہ دیا لیکن بعد میں حکومت صورتحال سے نمٹنے کیلئے ٹھوس حکمت عملی تیار کرنے میں ناکام ہوچکی ہیں۔ جنگ کے دوران پٹرول اور ڈیزل کی قلت کے اندیشہ کے تحت ملک کے تمام بڑ ے شہروں میں پٹرول پمپس پر طویل قطاریں دیکھی جارہی تھیں اور قیمتوں میں اضافہ کا بھی اندیشہ تھا لیکن پٹرولیم اشیاء کا مصنوعی بحران ختم ہوچکا ہے لیکن ایل پی جی گیاس کی قلت کے نتیجہ میں آٹو ڈرائیورس کو مشکلات کا سامنا حیدرآباد اور تلنگانہ کے تمام بڑے شہروں میں ہزاروں کی تعداد میں ایل پی جی آٹوز سڑک سے غائب ہیں کیونکہ ایل پی جی کے حصول میں کئی مقامات پر 6 تا 8 گھنٹے انتظار کی زحمت سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ ملک میں عوامی شعبہ کے اداروں کے مقابلہ خانگی شعبہ کی جانب سے ایل پی جی کی سربراہی زیادہ ہے ، لہذا مغربی ایشیاء کے بحران کا بہانہ بناکر خانگی ادارے ایل پی جی کی سربراہی میں تساہل سے کام لے رہے ہیں۔ ریاستوں کی جانب سے مرکز سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مداخلت کرتے ہوئے خانگی گیس کمپنیوں کو سربراہی میں اضافہ کی ہدایت دیں۔ حیدرآباد میں گزشتہ 10 دنوں سے ایل پی جی گیاس کے آٹو ڈرائیورس دشواریوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ بحران کے نتیجہ میں کئی آ ٹو ڈرائیورس عملاً بیروزگار ہوچکے ہیں اور خاندان کی کفالت ان کے لئے دشوار کن بن چکی ہے۔ حیدرآباد میں چند مخصوص ایل پی جی گیاس سنٹر پر روزانہ آٹوز کی طویل قطاریں دیکھی جارہی ہیں ۔ گیاس کے حصول کے لئے آٹور ڈرائیورس غذا اور پانی کے بغیر گھنٹوں انتظار کی زحمت سے گزر رہے ہیں لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ ڈرائیورس کا کہنا ہے کہ گیاس کے حصول میں گھنٹوں انتظار کے بعد وہ فوری طور پر سواری کی تلاش نہیں کرسکتے کیونکہ اگر موجودہ گیاس بھی ختم ہوجاتی ہے تو دوبارہ حصول کیلئے انتظار کرنا پڑے گا۔پرانے شہر کے چارمینار اور چادر گھاٹ علاقہ میں واقع گیاس سنٹرس پر آٹوز کی طویل قطاریں کئی محلہ جات تک پھیل چکی ہیں۔ بعض رضاکارانہ تنظیموں کی جانب سے آٹو ڈرائیورس کیلئے غذا اور پانی کا انتظام کیا جارہا ہے تاکہ وہ قطار میں برقرار رہ سکیں۔ تلنگانہ حکومت نے مرکزی حکومت کو گیاس سربراہی بہتر بنانے کیلئے مداخلت کی اپیل کی ہے ۔ اگر جنگ کی صورتحال جاری رہی تو گیاس کا بحران مزید شدت ا ختیار کرسکتا ہے اور اس کے اثرات تجارتی سرگرمیوں پر پڑیں گے ۔ کمرشیل گیاس کی قلت کے نتیجہ میں بلیک مارکیٹنگ میں اضافہ ہوا ہے اور کئی ہوٹلوں اور ریسٹورانٹس نے اضافی بوجھ سے بچنے کے لئے اپنے مینو کو کم کردیا۔1