ایمرجنسی ایک فرسودہ مسئلہ ‘ موجودہ صورتحال زیادہ سنگین

   

راہول گاندھی سادہ شخصیت کے مالک ۔ ملک میں غیر معلنہ ایمرجنسی ۔ سنجے راوت کی تحریر

ممبئی ۔ ملک میں 1975 میں نافذ کی گئی ایمرجنسی کو آج کے دور میں ایک فرسودہ اور پرانا مسئلہ قرار دیتے ہوئے شیوسینا لیڈر سنجے راوت نے مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ آج ملک میں ایسی صورتحال ہوگئی ہے کہ لوگ ایمرجنسی کے دور کو بہتر قرار دینے پر مجبور ہیں۔ اپنے ہفتہ وار کالم میں سنجے راوت نے کانگریس لیڈر راہول گاندھی کی جانب سے اندرا گاندھی کے فیصلے پر معذرت خواہی کئے جانے پر بھی سوال کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے عوام نے ایمرجنسی نافذ کرنے اندرا گاندھی کے فیصلے پر انہیں سزا دیدی ۔ انہیں سبق سکھایا ۔ بعد میں انہیں معاف بھی کردیا اور دوبارہ ملک کا اقتدار سونپ دیا ۔ ایمرجنسی ایک قدیم اور فرسودہ مسئلہ ہوگیا ہے ۔ اسے بار بار کیوں ہوا دی جانی چاہئے ۔ اس مسئلہ کو ہمیشہ کیلئے دفن کردیا جانا چاہئے ۔ سنجے راوت نے راہول گاندھی کو ایک سیدھا اور سادہ شخص قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے ماضی کے تعلق سے محض عام اظہار خیال کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ راہول گاندھی کے ریمارکس پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے ۔ 1975 میں ایمرجنسی غیرمتوقع حالات میں نافذ کی گئی تھی ۔ موجودہ دور کی سیاست اور میڈیا کا ماضی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ اس پر کوئی ایمرجنسی کا اثر ہے ۔ ملک میں موجودہ صورتحال ایسی ہوگئی ہے کہ لوگ 1975 کی ایمرجنسی کو بہتر قرار دینے لگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلمساز انوراگ کشیپ اور اداکارہ تاپسی پنو کے خلاف انکم ٹیکس کے دھاوے اس لئے کئے گئے ہیں کیونکہ انہوں نے حکومت کی پالیسیوں کے خلاف زبان کھولی تھی ۔ سنجے راوت نے واضح کیا کہ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے مودی حکومت میں غیر معلنہ ایمرجنسی کا تذکرہ کیا ہے اور اس کیلئے ماحولیاتی کارکن دشا روی کی غداری کے الزام میں گرفتاری کا حوالہ بھی دیا ہے۔ امریکی اخبار نے میڈیا گھرانوں پر سیاسی کنٹرول ‘ انتخابات میں کامیابی اور اپوزیشن کو توڑنے کی حکمت عملی اور دستوری اصولوں کی خلاف ورزیوں کا بھی حوالہ دیا ہے ۔ یہی سب کچھ 1975 میں بھی ہوا تھا ۔ سنجے راوت نے کہا کہ سابق وزیر اعظم آنجہانی اندرا گاندھی نے ایمرجنسی کے دوران پیش آئے زیادتیوں کے واقعات پر افسوس کا اظہار بھی کردیا تھا ۔