ایمسٹرڈم :یکم جنوری ( ایجنسیز ) نیدرلینڈز کے دارالحکومت ایمسٹرڈیم میں نئے سال کی خوشی کے موقع پر 19ویں صدی کا ایک چرچ آگ لگنے سے جل گیا جبکہ مختلف مقامات پر تشدد کے واقعات بھی ہوئے جن میں دو افراد ہلاک ہوئے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایمسٹرڈم میں سنہ 1872 میں تعمیر ہونے والیوونڈیلکرک چرچ میں صبح کے وقت لگی۔ حکام کا کہنا ہے کہ چرچ کا 50 میٹر (164 فٹ) اونچا ٹاور آتشزدگی کے باعث گر گیا اور چھت کو بھی بری طرح نقصان پہنچا ہے، تاہم ساتھ ہی یہ امید بھی ظاہر ہے کہ اس کے بعد بھی ڈھانچہ برقرار رہنے کی توقع ہے۔رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے۔اسی طرح ڈچ پولیس یونین کے سربراہ نائن کوئیمین نے بتایا ہے کہ نئے سال کی رات پولیس کے خلاف ایسے پرتشدد واقعات ہوئے ہیں جو اس سے قبل کبھی نہیں دیکھے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایمسٹرڈم میں ڈیوٹی کے دوران ان کو بھی آتش بازی اور دھماکہ خیز مواد سے نشانہ بنایا گیا۔نصف شب کے تھوڑی دیر بعد حکام کی جانب سے موبائل فونز پر ایک الرٹ جاری کیا جس میں لوگوں سے کہا گیا تھا کہ جب تک انسانی جانوں کو خطرہ نہ ہو، ہنگامی سروسز فراہم کرنے والے اداروں سے رابطہ نہ کریں۔رپورٹ کے مطابق پولیس اور فائر فائٹرز پر حملوں اور پرتشدد واقعات کی اطلاعات پورے ملک میں پھیلی ہوئی تھیں۔جنوبی شہر بریڈا کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وہاں لوگوں نے پولیس پر پیٹرول بم پھینکے۔آتش بازی سے جڑے حادثات کی وجہ سے دو افراد ہلاک ہوئے جن میں سے ایک کی عمر 38 سال اور دوسرے کی 17 برس بتائی گئی ہے جبکہ تین افراد بری طرح زخمی ہوئے۔روٹرڈیم کے ایک ہسپتال کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ وہاں 14 افراد لائے گئے جن میں 10 نابالغ افراد شامل تھے، ان کی آنکھیں شدید متاثر ہوئی تھیں اور ان میں سے دو کی سرجری بھی کرنا پڑی۔
