این ایس یو آئی کے صدر گرفتار، طلبہ کی زندگیوں سے کھلواڑ کا الزام
حیدرآباد: ایمسٹ امتحانات کے موقع پر امیدواروں کو کورونا سے بچاؤ کے لئے ماسک اور سینیٹائزر کی سربراہی کی کوشش کرنے پر این ایس یو آئی کے ریاستی صدر بی وینکٹ کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ این ایس یو آئی کی جانب سے آج امتحانی مراکز کے پاس باقاعدہ کاؤنٹر قائم کرتے ہوئے امیدواروں کو سینیٹائزر اور ماسک فراہم کیا گیا۔ کئی امیدوار این ایس یو آئی کی اس مساعی پر خوش تھے لیکن پولیس نے تقسیم کی اجازت نہیں دی۔ وہاں پہنچنے والے ریاستی صدر بی وینکٹ کو حراست میں لے کر پولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا ۔ این ایس یو آئی قائدین نے پولیس کے رویہ پر احتجاج کیا اور کہا کہ امیدواروں کو ماسک اور سینیٹائزر کی فراہمی کی اجازت نہیں دی گئی جو افسوسناک ہے ۔ وینکٹ نے کہا کہ این ایس یو آئی نے کورونا کی صورتحال سے نمٹنے میں حکومت کی ناکامی کے خلاف ’’چلو اسمبلی‘‘ احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ پولیس احتجاج کو ناکام بنانے کیلئے این ایس یو آئی قائدین کو حراست میں لے رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کو کورونا سے بچاؤ کے لئے ماسک اور سینیٹائزر کی سربراہی کا فیصلہ کیا گیا لیکن حکومت کو اس پر اعتراض ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ طلبہ اور سرپرستوں کی تشویش کے باوجود حکومت نے انٹرنس امتحانات کو جاری رکھا ہے ۔ حکومت کے رویہ کے خلاف کانگریس طلبہ تنظیم احتجاج جاری رکھے گی ۔