حیدرآباد: کانگریس کی طلبہ تنظیم این ایس یو آئی نے ایمسٹ انجنیئرنگ کے نتائج میں بے قاعدگیوں کا الزام عائد کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ دوبارہ جانچ کرتے ہوئے صحیح نتائج جاری کرے۔ این ایس یو آئی کے صدر بی وینکٹ نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی کی جانب سے جاری کردہ ایمسٹ نتائج میں کئی خامیاں ہیں۔ انتہائی عجلت میں نتائج جاری کردیئے گئے جس کے نتیجہ میں کئی طلبہ سے ناانصافی ہوئی ہے۔ انہوں نے حکومت پر طلبہ کے تعلیمی مستقبل سے کھلواڑ کا الزام عائد کیا اور کہا کہ کووڈ۔19 کی صورتحال میں ایمسٹ منعقد کیا گیا تھا اور نتائج کی اجرائی سے قبل طلبہ کے جوابات کی مناسب جانچ نہیں کی گئی۔ عجلت میں جاری کئے گئے نتائج میں کئی کوالیفائیڈ امیدواروں کو ناٹ کوالیفائیڈ قرار دیتے ہوئے نتیجہ جاری کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک یا دو پرچہ جات کے بیاک لاگ کے باوجود طلبہ کو پروموٹ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن ایسے طلبہ کو جب کوالیفائی ہونے کیلئے درکار 40 نشانات سے زائد حاصل ہوئے ، تب بھی انہیں نااہل قرار دیا گیا ہے ۔ کئی طلبہ نے 42 تا 50 نشانات حاصل کئے لیکن ایک یا دو پرچہ جات کی عدم یکسوئی کے نتیجہ میں انہیں ناٹ کوالیفائیڈ قرار دے دیا گیا ۔ وینکٹ نے حکومت کو ایمسٹ نتائج میں خامیوں کی اصلاح کیلئے 24 گھنٹے کا وقت دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر نتائج کو درست نہیں کیا گیا تو این ایس یو آئی 9 اکتوبر سے شروع ہونے والی کونسلنگ میں رکاوٹ پیدا کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کو انصاف دلانے کیلئے این ایس یو آئی کا احتجاج جاری رہے گا۔