ایمسیٹ نصاب کے معاملہ میں اندرون ہفتہ فیصلہ کیا جائیگا

   

دوسرے کلاسیس کے آغاز کا جائزہ، آف لائن کی تعلیم کیلئے دباؤ نہ بنایئے : سبیتا اندرا ریڈی

حیدرآباد : ریاستی وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی نے اسکولس اور کالجس کی 10 ماہ کے بعد کشادگی پر طلبہ اور ان کے والدین کے مثبت ردعمل پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ دوسرے کلاسیس کا آغاز اور ایمسیٹ کے نصاب کے معالہ میں اندرون ایک ہفتہ قطعی فیصلہ کرلیا جائے گا۔ وزیر تعلیم نے خانگی تعلیمی اداروں کو صرف ٹیوشن فیس وصول کرنے پر زور دیتے ہوئے کہاکہ فیس کی وصولی اور تنخواہوں کی ادائیگی کے معاملہ میں حکومت اپنے جاری کردہ احکامات پر عہد کی پابند ہے۔ خانگی تعلیمی ادارے آن لائن کی تعلیم بھی جاری رکھیں۔ آف لائن کی تعلیم کے لئے دباؤ نہ بنانے پر زور دیا۔ اسکولس اور کالجس کی کشادگی پر ریاست بھر میں حاصل ہونے والے ردعمل کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر تعلیم نے کہاکہ ریاست بھر میں 14 ہزار سے زائد اسکولس میں 11 لاکھ سے زیادہ طلبہ کو حاضر ہونا تھا تاہم فی الحال 50 فیصد سے زیادہ طلبہ اسکولس و کالجس کو حاضر ہورہے ہیں۔ ماباقی طلبہ بھی مرضی نامہ (کنسنٹ لیٹر) کے ساتھ تعلیمی اداروں کو پہونچنے کا قوی امکان ہے۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے کوویڈ ۔ 19 کے رہنمایانہ خطوط پر سختی سے عمل آوری کے لئے اسکولس کو احکامم جاری کئے گئے ہیں۔ ماسکس اور سنیٹائزرس کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ سنیٹائزر کے لئے خصوصی عملہ کی خدمات سے استفادہ کا مشورہ دیا گیا۔ تمام احتیاطی اقدامات کے بعد ہی اسکولس و کالجس کی کشادگی عمل میں لائی گئی۔ ماباقی کلاسیس کا کب سے آغاز ہوگا اس سوال کا جواب دیتے ہوئے سبیتا اندرا ریڈی نے کہاکہ فی الحال جو کلاسیس شروع ہوئی ہیں اس کا چند دن مشاہدہ کیا جائے گا، بچوں کے لئے کوئی بھی مسئلہ پیدا ہوا تو انھیں آئسولیشن روم میں رکھتے ہوئے طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ محکمہ تعلیم کے اقدامات سے طلبہ اور اولیائے طلبہ مطمئن ہیں، ان کا بھروسہ بڑھنے کے بعد دوسرے کلاسیس میں تعلیم کا آغاز کرنے پر غور کیا جائے گا۔