ایم آئی ایم قائدین کیخلاف عرضی پر عدالتی نوٹسیں

,

   

نئی دہلی ۔ 28 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) دہلی ہائیکورٹ نے جمعہ کو ایم آئی ایم کے تین قائدین کے خلاف ایک ہندو تنظیم کی عرضی پر نوٹسیں جاری کئے ہیں۔ محاذی ہندو تنظیم نے ان قائدین پر نفرت انگیز تقاریر کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت چاہی ہے۔ چیف جسٹس ڈی این پٹیل کی بنچ نے مدعا علیہان سے جواب طلب کئے اور اس معاملہ میں 13 اپریل کو سماعت پر ڈال دیا ہے۔ عرضی گذار تنظیم ہندو سینا نے دہلی پولیس کو ہدایات جاری کرنے کی استدعا کی کہ مجلسی ایم پی اسدالدین اویسی اور پارٹی کے قائدین ممبئی وارث پٹھان اور حیدرآباد کے اکبرالدین اویسی کے خلاف ایف آئی آر درج کریں کیونکہ انہوں نے دہلی میں اپنی تقریریوں کے ذریعہ ماحول کو کشیدہ اور فرقہ وارانہ بنایا۔ اسی طرح سماجی جہدکار ہرش مندر نے تین بی جے پی قائدین انوراک ٹھاکر، کپل مشرا اور پرویش ورما کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی استدعا کی ہے۔