بہار اسمبلی الیکشن میں ایم آئی ایم کے 20 امیدواروں کی اکثریت کا سیمانچل میں مقابلہ
نئی دہلی ؍ پٹنہ : کانگریس کی بہار یونٹ کے سربراہ مدن موہن جھا نے اے آئی ایم آئی ایم کو بی جے پی کی ’’بی ٹیم‘‘ قرار دیتے ہوئے آج الزام عائد کیاکہ اسدالدین اویسی زیرقیادت پارٹی کا بی جے پی کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے، لیکن یہ بھی کہاکہ اِس سے اسمبلی چناؤ پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا کیوں کہ عوام اپنے ووٹ ’’ضائع‘‘ نہیں کریں گے۔ بہار پردیش کانگریس کمیٹی کے سربراہ نے یہ بھی کہاکہ تیجسوی یادو کی قیادت میں ’مہا گٹھ بندھن‘ کو جاریہ انتخابات میں واضح اکثریت حاصل ہوگی اور کانگریس 2015 ء کے چناؤ کے مقابل لڑی گئی نشستوں پر جیت کے تناسب کو بلاشبہ بہتر بنائے گی۔ نیز ایجنسی پی ٹی آئی کو انٹرویو میں مدن موہن نے کہاکہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کو مہا گٹھ بندھن کے ووٹوں کو کاٹنے کا موقع نہیں ملے گا کیوں کہ اُس کے ووٹرس سوجھ بوجھ اور دور اندیشی سے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے اور ایک بھی ووٹ ضائع نہیں کریں گے۔ یہ دعویٰ اِس اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے کہ بہار اسمبلی چناؤ کا تیسرا مرحلہ ہفتہ 7 نومبر کو مقرر ہے جس میں سہ رخی مقابلہ یقینی ہوگی، جہاں ایم آئی ایم سیمانچل کی پٹی میں کئی نشستوں پر مقابلہ آرائی کے ذریعہ انتخابی شیرازہ کو بکھیرنے کی کوشش کررہی ہے۔ اِس پٹی میں قابل لحاظ مسلم آبادی ہے جو کانگریس کو اُمید ہے کہ نیشنل ڈیموکریٹک الائنس اور آر جے ڈی زیرقیادت عظیم اتحاد کے درمیان مناسب فیصلہ کرے گی۔ بہار چناؤ میں ایم آئی ایم 20 نشستوں پر انتخاب لڑرہی ہے جن میں سے اکثر 7 نومبر کے تیسرے مرحلہ میں آرہے ہیں۔ ایم آئی ایم گرانڈ ڈیموکریٹک سیکولر فرنٹ کا حصہ ہے جس میں 4 دیگر پارٹیاں بشمول اوپندر کشواہا کی راشٹریہ لوک سمتا پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی شامل ہیں۔ اِس سوال پر کہ آیا اویسی زیرقیادت ایم آئی ایم مہا گٹھ بندھن کے ووٹوں کو کاٹ کر تیسرے مرحلہ میں اس کے انتخابی امکانات کو متاثر کرے گی، مدن موہن نے کہاکہ جس شخص کی آپ بات کررہے ہو اور جن ووٹروں کے تعلق سے متاثر ہونے کی بات کی جارہی ہے، دونوں میں بہت فرق ہے۔ بہار اور بالخصوص سیمانچل کے ووٹرس سیاسی شعور رکھتے ہیں۔ وہ ایک بھی ووٹ ضائع نہیں کریں گے، تمام رائے دہندے اپنے ووٹ کا دانشمندی سے استعمال کریں گے۔ کانگریس لیڈر نے کہاکہ ایک یا دو سیٹ پر ہوسکتا ہے اُن کے مضبوط امیدوار کچھ اثر ڈالیں لیکن عمومی طور پر ووٹرس جذباتی نعروں سے متاثر نہیں ہوں گے۔ کانگریس کو یقین ہے کہ ووٹرس کوئی غلط فیصلہ نہیں کریں گے۔ اویسی اور اُن کے اتحادیوں کے تعلق سے دعوے کئے جاتے رہے ہیں کہ وہ ووٹ کٹوا عوامل ہیں۔ مدن موہن نے کہاکہ ہر کوئی جانتا ہے کہ وہ کس کی ٹیم ہیں اور اُنھیں کہاں سے رہنمائی ملتی ہے۔ اویسی کا جس ریاست سے تعلق ہے، وہاں وہ اپنی پارٹی کو مضبوط نہیں کررہے ہیں بلکہ دیگر ریاستوں میں عوام کو منتشر کرنے کی مہم میں نکل پڑتے ہیں۔ ایم آئی ایم نے ضمنی چناؤ میں ایک نشست جیتی تھی لیکن یہ اسمبلی الیکشن ہیں اور ووٹرس ہرگز جھانسے میں نہیں آئیں گے۔
