ایم ایس کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میںرہنمائی کرینگے
حیدرآباد 27 ، جولائی(پریس نوٹ) بدلتے ہوئے رجحانات اور مستقبل کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی کی انتظامیہ نے دو شہرہ آفاق ماہر تعلیم کی خدمات حاصل کی ہے ۔ جنہوں نے اس ماہ بطور ڈائرکٹر ایم ایس جوائن کیا ہے۔ ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی کے چیرمین محمدلطیف خان نے آج بتایا کہ ایم ایس نے دو ماہر تعلیم کی خدمات حاصل کی ہے جو ایم ایس کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میںرہنمائی کرینگے ۔انہوں نے بتایا کہ یہ دونوں ماہر تعلیم صدر جمہوریہ ہند ایوارڈ یافتہ ہیں اور انہوں نے تعلیمی میدان میں کارہائے نمایاں انجام دیا ہے۔ ان دونوں ماہر تعلیم کا تعلق شہر حیدرآباد سے ہے۔ ان میں سے ایک ڈاکٹر سید حامدہیں جنہوں نے امریکہ سے ایجوکیشن میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے جنہیں 40سال کا سی بی ایس سی اسکولوں میں درس و تدریس کے علاوہ تعلیمی امور کی انتظامیہ کا وسیع تجربہ ہے۔ انہوں نے 30برس حکومت ہند کے تعلیمی ادارہ کیندریا ودیالیہ میں بطور استاد اور پرنسپل خدمات انجام دینے کے بعد مزید 10برس سعودی عربیہ اور متحدہ عرب امارات میں واقع انڈین انٹرنیشنل اسکولوں میں خدمات انجام دیا۔ انکی تعلیمی خدمات کے اعتراف میں مرکزی وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کی طرف سے انہیں بیسٹ ٹیچر کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ این سی ای آر ٹی نے انہیں کلاس روم انووٹیٹیو پریکٹس ایوارڈ عطا کیا۔ انکی گراں قدر تعلیمی خدمات کے اعزاز میں حکومت ہند کی طرف سے انہیں 2014ء میں نیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا۔ جو صدر جمہوریہ ہند کے ہاتھوں انہیں دیا گیا۔ حکومت سعودی عربیہ کی وزارت تعلیم نے بھی انکی تعلیمی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں بیسٹ پرنسپل کے اعزاز سے نوازا۔دوسرے ماہر تعلیم جنہوں نے ایم ایس میں بطور ڈائرکٹر شمولیت اختیار کیا ہے وہ ڈاکٹر محمد غوث الدین ہیں۔ یہ زولوجی کے معروف پروفیسر ہیں جنہوں نے تین دہائی تک یونیورسٹی سطح پر (زوالوجی) درس و تدریس کی خدمات انجام دیں۔اور اس سال کے ابتداء میں گورنمنٹ سٹی کالج حیدرآباد سے سبکدوش ہوئے۔ڈاکٹر محمد غوث الدین نے عثمانیہ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور انڈین فارنسک سائنسیس میں گراں قدر خدمات انجام دینے پر صدرجمہوریہ ہند کی طرف سے انہیں بیورو آف پولیس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کا فیلو شپ ایوارڈ سے نوازا گیا۔
انکی رہبری میں سینکڑوں کی تعداد میں طلباء نے میڈیسن میں مفت سیٹیں حاصل کی۔ آج مختلف میڈیکل کالجوں میں اُنکے سیکڑوں طلباء زیر تعلیم ہیں جبکہ سینکڑوں سے زائد طلباء ڈاکٹرس بن کر سماج میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔