زرعی قانون راتوں رات وضع نہیں کئے گئے
گزشتہ 20 برسوں میں مرکز کی ہر حکومت نے اس پر تبادلہ خیال کیا ہے
مدھیہ پردیش میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ وزیراعظم کا کسانوں سے خطاب
نئی دہلی : ملک میں زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے احتجاج کا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی پر اب تک کوئی مثبت اثر نہیں ہوا ہے جبکہ سات سمندر پار کناڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو یہ محسوس کرتے ہیں کہ کسانوں کے ساتھ نریندر مودی کو بات کرنا چاہئے لیکن دہلی میں ہوتے ہوئے بھی مودی کا کسانوں کے تئیں سرد رویہ ناقابل فہم ہے۔ آج اُنھوں نے زرعی قوانین کا دفاع کرتے ہوئے بتایا کہ یہ کوئی آج بنایا گیا قانون نہیں بلکہ گزشتہ 20 برسوں سے دہلی میں برسر اقتدار آئی ہر حکومت کے ساتھ اس پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اقل ترین امدادی قیمت (ایم ایس پی) کے بارے میں یہ کہا جارہا ہے کہ نئے زرعی قوانین کے تحت اسے برخاست کردیا جائے گا جبکہ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ایسا کہنا سراسر غلط بات ہے اور جو یہ کہہ رہا ہے وہ اوّل نمبر کا جھوٹا ہے۔ اُنھوں نے اپنی بات دہراتے ہوئے کہاکہ یہ زرعی قوانین راتوں رات وضع نہیں کرلئے گئے بلکہ گزشتہ 20 برسوں سے اس کی تیاری جاری تھی اور مرکز میں زیراقتدار ہر حکومت نے اس پر تبادلہ خیال کیا ۔ مودی نے کہاکہ کسانوں کے گروپس، زرعی ماہرین، ماہرین معاشیات، سائنسداں اور ترقی پسند کسانوں نے اصلاحات کا مطالبہ کیا تھا۔ وہ پارٹیاں جو زرعی قوانین کی آج مخالفت کررہی۔ اُنھوں نے خود اپنے انتخابی منشور میں زرعی اصلاحات لاگو کرنے وعدے کئے تھے۔ مدھیہ پردیش میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ کسانوں سے خطاب کے دوران اُنھوں نے یہ بات کہی۔ یہ تمام پارٹیاں آج بیحد دُکھی ہیں۔ وہ خودسے سوال کررہی ہیں کہ جو کام ہم نہیں کرسکے وہ مودی کیونکر کرسکتے ہیں۔ اُن کو اس کامیابی کا سہرہ کیسے باندھا جاسکتا ہے؟ لہذا میں اُن پارٹیوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کسانوں کی اصلاحات کا سہرہ وہ اپنے سر باندھ لیں۔ میں اُن پارٹیوں کے منشور کو بھی مسلمہ قرار دیتا ہوں۔ مجھے کسی کام کا کوئی کریڈٹ نہیں چاہئے۔ کریڈٹ آپ ہی رکھئے۔ مجھے تو صرف کسانوں کی طرز زندگی میں بہتری لانے میں دلچسپی ہے۔ بس اتنا کہوں گا کہ کسانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش مت کیجئے۔ یہاں یہ تذکرہ ضروری ہے کہ وزیراعظم کا یہ خطاب احتجاجی کسانوں تک اپنی بات پہنچانے کی ایک کوشش ہے جو دہلی کی سرحدوں پر گزشتہ کئی دنوں سے تین متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ مودی نے زور دیا کہ ہندوستان کے کسان بھی سہولیات کے معاملہ میں دُنیا کے کسی بھی ملک کے کسانوں سے پیچھے نہیں رہیں گے۔ میں صرف اُن لوگوں کو بے نقاب کرنا چاہتا ہوں جو ہمارے کسان کے سچے ہمدرد نہیں ہیں۔ مودی نے کانگریس پارٹی کی جانب سے 2018 ء میں مدھیہ پردیش میں کئے گئے انتخابی وعدہ کو یاد دلایا جہاں کانگریس نے کہا تھا کہ اقتدار پر آنے کے بعد کسانوں کے قرضہ جات اندرون دس دن معاف کردیئے جائیں گے لیکن کیا ہوا؟ کانگریس نے کیا کہا؟ وعدے صرف وعدے ہی رہے۔ کانگریس کو جھوٹ بولنے کی عادت رہی ہے۔