ممبئی ، 9 جولائی (یو این آئی) بلڈھانہ سے تعلق رکھنے والے شیو سینا (شندے گروپ) کے رکن اسمبلی سنجے گائیکواڑ ایک تنازع میں اس وقت پھنس گئے جب وہ سرکاری کینٹین کے عملے پر حملہ کرتے ہوئے کیمرے میں قید ہو گئے ۔ واقعہ کھانے کے معیار کے سلسلے پیش آیا، جس پر گائیکواڑ نے شدید غصے کا اظہار کیا اور کینٹین کے ایک اہلکار سے مارپیٹ کی۔ یہ واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد اپوزیشن اتحاد مہاوکاس اگھاڑی نے ریاستی حکومت پر کڑی تنقید کی اور نائب وزیر اعلی و وزیر داخلہ دیویندر فڑنویس سے مطالبہ کیا کہ وہ سنجے گائیکواڑ کے خلاف فوری کارروائی کریں۔ شیو سینا (یو بی ٹی) کے رہنما سنجے راوت نے سوال کیا کہ اگر یہ خبر درست ہے تو ابھی تک کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔ این سی پی (ایس پی) کے قومی ترجمان کلائیڈ کرسٹو نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ شنڈے سینا کے ایم ایل اے سنجے گائیکواڑ کی شرمناک غنڈہ گردی ناقابل برداشت ہے ۔ کیا یہ اس بنیاد پر خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں کہ وہ حکومت کا حصہ ہیں؟ اس تمام تر تنقید کے باوجود سنجے گائیکواڑ اپنے موقف پر قائم رہے اور معذرت سے انکار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک سرکاری کینٹین ہے ، یہاں ریاست بھر سے عوام، کارکن، اور افسران کھانے آتے ہیں، اس لیے معیار اچھا ہونا ضروری ہے ۔
میں عوامی نمائندہ ہوں، جب کوئی جمہوری زبان نہیں سمجھتا تو مجبوراً مجھے وہی زبان اختیار کرنی پڑتی ہے ۔”
مہاوکاس اگھاڑی کے رہنماؤں نے زور دے کر کہا کہ فڑنویس کو، جو ریاست کے وزیر داخلہ بھی ہیں، اس معاملے پر جواب دینا ہوگا۔