ایم ایل سی الیکشن:اخراجات کی کوئی حد نہیں ، پارٹیوں کی جانب سے کروڑہا روپئے خرچ

,

   

الیکشن حکام اور پولیس کارروائی سے قاصر، شراب اور دولت کا بے دریغ استعمال، ایک ووٹ کیلئے 5000 روپئے کی پیشکش

حیدرآباد۔ لوک سبھا سے سرپنچ تک کے تمام انتخابات میں امیدواروںکیلئے انتخابی اخراجات کی حد مقرر ہے لیکن گریجویٹ ایم ایل سی نشستوں کے امیدواروں کو مکمل آزادی دے دی گئی ہے اور الیکشن کمیشن نے امیدواروں کیلئے اخراجات کی کوئی حد مقرر نہیں کی۔ریاست کی 2 ایم ایل سی نشستوں کی انتخابی مہم عروج پر ہے اور دونوں حلقہ جات میں رائے دہندوں کی تعداد فی کس 5 لاکھ سے زیادہ ہے۔ باوجود اس کے الیکشن کمیشن نے انتخابی اخراجات پر کوئی روک نہیں لگائی جس کے نتیجہ میں دونوں حلقہ جات میں امیدواروں کی جانب سے کروڑہا روپئے خرچ کئے جارہے ہیں۔ عام انتخابات کی طرح دولت اور شراب کی تقسیم عام ہوچکی ہے اور الیکشن کمیشن ان سرگرمیوں پر روک لگانے سے اس لئے بھی قاصر ہے کیونکہ انتخابی قواعد میں اخراجات کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی۔ صورتحال کا فائدہ اٹھاکر اہم سیاسی جماعتوں نے کھلے عام رائے دہندوں کو رشوت دینے کی مہم چھیڑ رکھی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب گریجویٹ نشستوں کے انتخابات عام انتخابات کی طرح مہنگے ہوچکے ہیں۔ ٹی آر ایس، بی جے پی اور کانگریس کے علاوہ بعض آزاد امیدوار بھی انتخابی مہم میں دولت کا بے دریغ استعمال کررہے ہیں۔ انتخابی ضابطہ اخلاق پر عمل آوری کا کوئی تصور دکھائی نہیں دیتا۔ سرپنچ کے الیکشن کیلئے جہاں ووٹرس کی تعداد 5 تا6 ہزار ہوتی ہے امیدوار 2.5 لاکھ روپئے سے زائد خرچ نہیں کرسکتا۔ اسی طرح جی ایچ ایم سی الیکشن میں کارپوریٹر امیدوار کیلئے انتخابی اخراجات کی حد 5 لاکھ مقرر ہے۔ حیدرآباد، رنگاریڈی، محبوب نگر اور ورنگل، کھمم اور نلگنڈہ گریجویٹ نشستوں کے انتخابات 14 مارچ کو مقرر ہیں اور جیسے جیسے انتخابی مہم شدت اختیار کررہی ہے رائے دہندوں پر اخراجات میں اضافہ ہوچکا ہے۔ رائے دہندوں نے ووٹ کیلئے مسائل کی یکسوئی کے بجائے کئی مقامات پر رقم کی شرط رکھی ہے۔ نہ صرف انتخابی مہم بلکہ رائے دہندوں میں تقسیم کیلئے ہر علاقہ میں لاکھوں روپئے خرچ ہورہے ہیں۔ ایسے امیدوار جو معاشی طور پر کمزور ہیں انہیں انتخابی مہم میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بڑی پارٹیاں روزانہ 50 لاکھ تا ایک کروڑ روپئے مہم پر خرچ کررہی ہیں۔ ریٹرننگ آفیسر کو انتخابی اخراجات اور ضابطہ کی خلاف ورزی سے متعلق درخواستوں پر کوئی کارروائی نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ہر رائے دہندے کو 4 تا 5ہزار روپئے کی پیشکش کی جارہی ہے۔ دونوں حلقہ جات میں شراب اور رقم کی منتقلی پر پولیس کی کوئی نگرانی نہیں ہے کیونکہ الیکشن کمیشن نے اخراجات کی کوئی حد مقرر نہیں کی۔ چیف الیکٹورل آفیسر ششانک گوئل نے کہا کہ اگرچہ ایم ایل سی الیکشن میں اخراجات پر کوئی پابندی نہیں لیکن انتخابی مہم کے دوران رائے دہندوں میں شراب اور رقم کی تقسیم آئی پی سی کی دفعات کی خلاف ورزی ہے لہذا پولیس کو کارروائی کا اختیار حاصل ہے۔ انتخابی مہم زیادہ تر گھر گھر پہنچ کر چلائی جارہی ہے کیونکہ گریجویٹس رائے دہندے ہی ووٹ دینے کا حق رکھتے ہیں۔ ہر پارٹی نے پولنگ بوتھ کی سطح پر رائے دہندوں کی فہرست تیار کرلی ہے اور گھر گھر پہنچ کر ملاقاتوں کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ اسمبلی انتخابات میں امیدواروں کیلئے اخراجات کی حد 28 لاکھ ہے جبکہ لوک سبھا میں 70 لاکھ کی حد مقرر کی گئی ہے۔ دیگر کارپوریشنوں میں ہر امیدوار صرف دیڑھ لاکھ روپئے خرچ کرسکتا ہے۔ میونسپلٹیز میں ہر امیدوار ایک لاکھ اور گرام پنچایت میں وارڈ ممبر صرف 50 ہزار روپئے تک خرچ کرسکتا ہے۔ انتخابات کی تکمیل کے بعد اندرون 45 دن ہر امیدوار کو انتخابی اخراجات کی تفصیل داخل کرنی ہوتی ہے لیکن کونسل کے انتخابات میں اس طرح کی کوئی شرط نہیں جس سے سیاسی جماعتیں اور امیدوار من مانی طور پر خرچ کررہے ہیں۔