ایم ایل سی انتخابات میں مسلمانوں کو نمائندگی نہ دینا حکومت کی مسلمانوں سے ناانصافی ،اردو جرنلسٹ فورم صدر

   

Ferty9 Clinic

آتماکور ۔ریاست تلنگانہ کے قیام کے لیے جاری جدوجہد میں اور دو مرتبہ ریاست میں ٹی آر ایس پارٹی کو اقتدار پر لانے میں مسلمانوں نے ہمیشہ ٹی آر ایس پارٹی کا ساتھ دیا ہے خود کو سیکولر چیف منسٹر کہنے والے کلواکنٹلہ چندارشیکھر راؤ نے آبادی کے لحاظ سے مسلمانوں کو نمائندگی نہیں دی ہے انھوں نے مسلمانوںکے کو ووٹ کو ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا ہے لیکن مسلمانوں کی ترقی و فلاح وبہبودی کے لیے کوئی اقدامات نہیں انجام دئے ہیں ۔وہ صرف مسلم مسائل حل کیلئے قانون ساز اسمبلی میں بیان بازی کررہے ہیں اور سات سالہ اقتدار میں مسلمانوں کے لیے اقلیتی اقامتی اسکول، کالج، اور شادی مبارک اسکیم کے علاوہ کوئی ترقی کی فکر نہیں کی ہے اور دوسری جانب ریاست میں کم آبادی والے اقوام کی ترقی کے کئی اقدامات کئے جارہے ہیں ہم ریاستی وزیر اعلیٰ سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو آبادی کے لحاظ سے تعلیم، روزگار میں اور سیاست میں نمائندگی دے ۔یہ مسلمانوں کا دستوری حق ہے۔ اس لیے ایم ایل سی کونسل میں مسلم نمائندگی کی جگہ مسلم ہی کو موقع دیا جائے ورنہ مسلمان کسی اورکو اقتدار پر لا سکتے ہیں ویسے ہی دوسروں کو بھی آنے والے انتخابات میں موقع دے سکتے ہیں۔ اس موقع پر عبدالواحد نے تمام مسلم قائدین، مذہبی،تنظیم اور سماجی کارکن سے گذارش کی ہے کہ وہ سب حکومت پر اپنے طور پر دباؤ بڑھا دی جائے۔