الیکشن کمیشن کنٹرول میں ناکام، کانگریس ترجمان نرنجن کا الزام
حیدرآباد: پردیش کانگریس کمیٹی نے ایم ایل سی انتخابات میں برسر اقتدار پارٹی پر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا ۔ پارٹی ترجمان جی نرنجن نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کیلئے ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل آوری کرے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس اور بی جے پی قائدین رائے دہندوں میں شراب اور دولت تقسیم کرتے ہوئے تائید حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی خرچ کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی ، لہذا کھلے عام شراب اور دولت تقسیم کی جارہی ہے ۔ سرکاری اور خانگی اسکولوں کو انتخابی مہم کے مراکز میں تبدیل کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو امکنہ اراضی فراہم کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے میڈیا کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ نرنجن نے کہا کہ گزشتہ 7 برسوں میں حکومت نے صحافیوں کے لئے کئی اعلانات کئے لیکن عمل نہیں کیا گیا ۔ کے ٹی راما راؤ اور دیگر وزراء کی جانب سے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں کے سلسلہ میں الیکشن کمیشن اور چیف الیکٹورل آفیسر سے نمائندگی کی گئی ہے لیکن دونوں ادارے ضابطہ اخلاق کے نفاذ میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے سرکاری ملازمین کے ساتھ تین گھنٹوں تک اجلاس منعقد کیا اور پی آر سی پر عمل آوری کا تیقن دیتے ہوئے کونسل انتخابات میں تائید کی خواہش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لالچ کے ذریعہ سرکاری ملازمین اور اساتذہ کی تائید حاصل کی جارہی ہے ۔