حیدرآباد۔شہر میں ایم ایم ٹی ایس گذشتہ 9ماہ سے بند ہونے سے ماہانہ 2.5کروڑ کے نقصانات کا سامنا ہے ۔ لاک ڈاؤن کے بعد ایم ایم ٹی ایس کو بھی معطل کیا گیا تھا لیکن تاحال ان کی بحالی نہیں ہوپائی ہے جس کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا بھی ہے۔ ایم ایم ٹی ایس بحالی کیلئے ریلوے کو توجہ دلائی جاچکی ہے لیکن ریلوے سے تاحال کوئی احکام جاری نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے ایم ایم ٹی ایس خدمات ہی نہیں بلکہ 121 لوکل ٹرین بھی معطل ہیں۔ 2003 میں ایم ایم ٹی ایس خدمات کا آغاز کیا گیا تھا جو فلک نما تا سکندرآباد تھی ۔ اس ٹرین کے مسافرین کی تعداد میں اضافہ ہوتاچلا گیا تھا لیکن گذشتہ 9ماہ کے دوران ایم ایم ٹی ایس کی معطلی سے مسافرین کو مشکلات کا سامنا ہے اور جو لوگ روزانہ استفادہ کرتے تھے انہیں دیگر سواری کے استعمال مجبور ہونا پڑرہا ہے۔ 30 ہزار مسافرین کے ماہانہ ٹرین پاس متاثر ہوئے تاہم ریلوے نے پاسیس کے سلسلہ میں بھی کوئی وضاحت نہیں کی ہے ۔ کہا جا رہاہے کہ فوری ایم ایم ٹی ایس کی بحالی کے آثار نہیں ہیں جبکہ ریلوے سے بتدریج ٹرین خدمات بحال کرنے اقدامات ہورہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایم ایم ٹی ایس کی بحالی کے سلسلہ میں تجاویز اور سفارشات کی تیاری کے احکام جاری کئے گئے ہیں لیکن کورونا وائرس کی دوسری لہر کے پیش نظر ان سفارشات و تجاویز کی تیاری کا عمل بھی روک دیا گیا ہے۔
