ایم ایم ٹی ایس پراجکٹ کی توسیع کیلئے ریاستی حکومت فنڈز جاری کرے

   


کے سی آر کو کشن ریڈی کا مکتوب، پراجکٹ کا کام حکومت کے رویہ کے باعث معطل

حیدرآباد۔ مرکزی مملکتی وزیر داخلہ کشن ریڈی نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے مطالبہ کیا کہ ایم ایم ٹی ایس پراجکٹ کی شہر میں توسیع کیلئے ریاست کی حصہ داری کے مطابق فنڈز جاری کرے۔ حیدرآباد میں ایم ایم ٹی ایس کو یادگیر گٹہ تک توسیع کا منصوبہ ہے۔ کشن ریڈی نے چیف منسٹر کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے کہا کہ 6 سال قبل مرکز نے 816 کروڑ کی لاگت سے ایم ایم ٹی ایس کے دوسرے مرحلہ کے پراجکٹ کی منظوری دی ہے۔ مرکز کے فنڈ سے پراجکٹ کے کام کا آغاز ہوچکا ہے۔ معاہدہ کے مطابق ریاستی حکومت کو 554 کروڑ روپئے ریلویز کو ادا کرنے ہیں لیکن ابھی تک صرف 129 کروڑ جاری کئے گئے۔ ریاستی حکومت کو مزید 414 کروڑ روپئے کی اجرائی کرنی ہے۔ کشن ریڈی نے کہا کہ پراجکٹ کی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ریلویز نے زائد فنڈ خرچ کئے ہیں۔ مرکز کی جانب سے 789 کروڑ منظور کئے گئے۔ ریاست کی جانب سے اپنا حصہ جاری نہ کرنے کے سبب پراجکٹ کا کام معطل ہوچکا ہے۔ کشن ریڈی نے کہا کہ گذشتہ چند برسوں میں پراجکٹ کی لاگت میں اضافہ ہوگیا لہذا ریاستی حکومت کو 634 کروڑ جاری کرنے ہوں گے اور ریلویز 317 کروڑ خرچ کرے گا۔ کشن ریڈی نے کہا کہ ریلویز نے ابھی تک اپنے حصہ سے زیادہ کی رقم خرچ کردی ہے۔ پراجکٹ کی پیشرفت کیلئے ریاستی حکومت کی جانب سے فنڈز کی اجرائی ضروری ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو مضافاتی علاقوں میں ایم ایم ٹی ایس خدمات کو توسیع دینے کیلئے اپنا حصہ جاری کرنا چاہیئے۔ انہوں نے گھٹکیسر تا رائے گیر سے یادگیرگٹہ تک ایم ایم ٹی ایس کو توسیع دینے کی سفارش کی۔ انہوں نے بتایا کہ ریلویز اور ریاستی حکومت کے درمیان 2016-17 میں کئے گئے معاہدہ کے مطابق 412 کروڑ خرچ کئے جانے تھے۔ ریلویز نے حکومت سے فنڈز جاری کرنے کی اپیل کی ہے لیکن تلنگانہ حکومت کا رویہ افسوسناک ہے۔