ایم اے خان نے پارٹی صدر سونیا گاندھی کو مکتوب استعفیٰ روانہ کردیا

   


پارٹی میں کرائے کے کارکنوں کو اہمیت حقیقی کارکن نظرانداز، پارٹی کارکنوں سے رشتہ ٹوٹ گیا
حیدرآباد ۔ 27 اگست (سیاست نیوز) کانگریس کے سینئر قائد سابق رکن راجیہ سبھا ایم اے خان کانگریس سے مستعفی ہوگئے۔ انہوں نے اپنا مکتوب استعفی پارٹی صدر سونیا گاندھی کو آج روانہ کردیا۔ ایم اے خان نے اپنے مکتوب استعفیٰ میں بتایا کہ وہ زمانہ طالب علمی سے کانگریس کے ساتھ ہیں اور 40 سال تک پارٹی میں مختلف عہدوں پر کام کیا ہے لیکن پچھلے 10 سال سے سارے ملک میں پارٹی کا کارکنوں سے رابطہ ختم ہوگیا ہے۔ پارٹی میں تبادلہ خیال کا جو پلیٹ فارم تھا اس کو سبوتاج کردیا گیا ہے۔ لمبے عرصہ سے پارٹی قیادت سینئر قائدین کو نظرانداز کرتے ہوئے ان کی توہین کررہی ہے۔ کرائے کے ورکرس کو پارٹی کی ریڑھ کی ہڈی تصور کی جارہی ہے اور حقیقی کارکنوں کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔ کرائے کے کارکنوں کو پارٹی کی طاقت سمجھا جارہا ہے جس کی وجہ سے ملک بھر میں کانگریس کمزور ہوگئی ہے اور ایک کے بعد دیگر ریاستوں کے اقتدار سے محروم ہورہی ہے۔ پارٹی کے سینئر قائدین جو بھی تجاویز پیش کررہے ہیں اس کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں فلور کوآرڈینیشن ختم ہوگیا ہے۔ ایوانوں میں کسی بھی مسئلہ کو موضوع بحث بنانے کی کوئی حکمت عملی نہیں ہے۔ پارٹی میں ڈیامیج کنٹرول کا فقدان پایا جاتا ہے جس پر انہیں بے حد افسوس ہے۔ اس لئے وہ کانگریس پارٹی کی ابتدائی رکنیت سے مستعفی ہورہے ہیں۔ن