سدی پیٹ فاونڈیشن کے توسط سے جناب محمد فاروق حسین کے ہاتھوں چیک کی پیشکشی
حیدرآباد۔ سدی پیٹ فاؤنڈیشن کے ذمہ داروں نے جناب محمد فاروق حسین رکن قانون ساز کونسل تلنگانہ راشٹر سمیتی کی قیادت میں حنا محمدی بیگم ساکن موسیٰ نگر چادرگھاٹ اور ان کے افراد خاندان سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں ایک سال کی فیس پر مشتمل چیک حوالہ کیا اور اس موقع پر ان کے والدین اور نانا کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کی بھی گلپوشی اور شال پوشی کی گئی ۔ سرکاری اسکول کی فارغ حنا محمدی بیگم جو کہ ایک غریب گھرانہ سے تعلق رکھتی ہے اس لڑکی کوایم بی بی ایس میں داخلہ حاصل ہونے کے بعد جب اس بات کا علم ہوا کہ گذشتہ سیلاب کے دوران حنا جس مکان میں رہتی ہے اس میں بھی پانی داخل ہوگیا تھا اور انتہائی کسم پرسی کے عالم میں زندگی گذارنے کے باوجود حوصلہ کے ساتھ تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ جناب محمد فاروق حسین نے ایم بی بی ایس میں داخلہ حاصل کرنے والی طالبہ اور ان کے والدین سے ملاقات کے دوران کہا کہ وہ ایم بی بی ایس کی تکمیل تک کسی بھی طرح کی مشکل میں ان سے رجوع ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر آئندہ برسوں کے دوران بھی فیس کی ادائیگی کے انتظامات کئے جائیں گے۔ جناب محمد فاروق حسین نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حنا محمدی بیگم اور ان کے افراد خاند ان کو ڈبل بیڈروم مکان کے سلسلہ میں جلد ہی چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے ملاقات کرتے ہوئے نمائندگی کی جائے گی۔ انہوں نے معاشرہ کے متمول افراد اور سرکردہ شخصیتوں اور اداروں سے خواہش کی کہ وہ ایسی ہونہار طالبات کے لئے اپنے دست تعاون دراز کریں۔ انہوں نے کہا کہ کسی ایک غریب گھرانہ میں لڑکا یا لڑکی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو گھر میں علم کی روشنی سارے گھر کو روشن کردیتی ہے۔ اس موقع پر رکن قانون ساز کونسل کے ہمراہ جناب سلطان عارف اقبال ‘ محمد سجاد حسین ‘ جناب عابد محی الدین کے علاوہ دیگر موجود تھے۔ جناب سلطان عارف اقبال نے بتایا کہ سدی پیٹ فاؤنڈیشن جو کہ جناب سعادت نظیرکی نگرانی میں چلایا جاتا ہے اس فائونڈیشن کے ذریعہ غریب مستحق طلبہ کی مدد کے علاوہ دیگر فلاحی اور رفاہی کام انجام دیئے جاتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ فاؤنڈیشن نے لاک ڈاؤن کے علاوہ رمضان ‘ دسہرہ اور کرسمس کے دوران بھی مستحقین کی بلا تفریق مذہب و ملت امداد کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے ہیں اور انسانی بنیادوں پر خدمات انجام دیتے ہوئے اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہوسکے ضرورتمندوں کی مدد کی جائے ۔
