نئی دہلی: پانچ ریاستوں کے حالیہ اسمبلی انتخابات میں سب سے آخر میں یعنی 30 نومبر کو تلنگانہ میں ووٹنگ ہوئی تھی لیکن حکومت کی تشکیل کے معاملے میں تلنگانہ سرفہرست ہے۔ اس کا مطلب ہیکہ پانچ ریاستوں میں سے نئی حکومت 7 دسمبر کو یہاں سب سے پہلے حلف اٹھائے گی، جبکہ 8 دسمبر کو میزورم میں حلف برداری کی تقریب منعقد کی جائے گی۔ان تاریخوں کے اعلان کے ساتھ ہی بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن ریاستوں میں پہلے انتخابات ہوئے وہاں حکومت بنانے میں کیا مسئلہ ہے۔ بی جے پی اس سوال کا جواب دینے سے گریز کر رہی ہے ۔بی جے پی نے مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں اکثریت حاصل کر لی ہے لیکن انتخابی نتائج کے تین دن گزرنے کے بعد بھی پارٹی چیف منسٹر کے نام کا فیصلہ نہیں کر پائی ہے۔ اس کے پیچھے سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس بار پارٹی نے سی ایم چہرے کے بغیر الیکشن لڑا تھا۔ انہوں نے مدھیہ پردیش میں اپنے موجودہ وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان اور چھتیس گڑھ اور راجستھان کے سابق وزرائے اعلیٰ (رمن سنگھ اور وسندھرا) سے بھی خود کو دور کر لیا تھا۔ اس کا مطلب ہیکہ پارٹی انہیں وزیر اعلیٰ نہیں بنانا چاہتی۔
اس کے علاوہ پارٹی نے اسمبلی انتخابات میں ایم ایل اے انتخابات کے لیے بھی اپنے کئی ایم پیز کو میدان میں اتارا تھا۔ ان میں سے اکثر جیت چکے ہیں۔تینوں ریاستوں میں بی جے پی کے سامنے کئی بڑے نام ہیں، جن میں سے کسی ایک کا فیصلہ کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔بی جے پی عام طور پر تیز اور سخت فیصلے لینے کے لیے جانی جاتی ہے لیکن پارٹی کو ان تین ریاستوں میں وزیر اعلیٰ کے نام کا فیصلہ کرنے میں کافی وقت لگ رہا ہے۔ اس کی بڑی وجہ اندرونی کشمکش اور ووٹ بینک پر نظر ہے۔ حالانکہ پارٹی اس پر کچھ بھی کہنے سے گریز کر رہی ہے، لیکن پچھلے کچھ دنوں میں سامنے آنے والی تصویروں سے ایسا لگتا ہے۔اگر ہم راجستھان کی بات کریں، تو یہاں دیا کماری، بابا بالکناتھ، کیروری لال مینا کے نام وزیراعلیٰ کی دوڑ میں آگے تھے۔ اسی دوران وسندھرا راجے گروپ بھی سرگرم ہوگیا اور کئی ایم ایل اے منگل کو وسندھرا راجے سے ملنے آئے۔کارکنوں کی ایک بڑی تعداد وسندھرا راجے کو وزیر اعلیٰ بنانا چاہتی ہے لیکن پارٹی اس کے حق میں نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی اگر پارٹی ایسا کرتی ہے تو ممکن ہے کہ وسندھرا راجے اور ان کے حامی راجستھان میں احتجاج کریں۔ اسی لیے راجستھان میں بی جے پی بیک فٹ پر دکھائی دے رہی ہے۔مدھیہ پردیش کی بات کریں تو یہاں بی جے پی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی اور اس کا کریڈٹ سابق وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان اور ان کی فلاحی اسکیموں کو دیا جا رہا ہے لیکن بی جے پی نے شروع سے ہی شیوراج سنگھ چوہان سے خود کو دور کر رکھا تھا۔ پارٹی انہیں وزیر اعلیٰ بنانے کے حق میں نہیں ہے، لیکن اس کے سامنے چیلنج یہ ہے کہ اگر وہ کسی اور کا نام لیتی ہے تو شیوراج کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد ناراض ہو جائے گی۔اس کے علاوہ یہاں جیوترادتیہ سندھیا، کیلاش وجے ورگیہ، نریندر سنگھ تومر اور پرہلاد سنگھ جیسے ناموں سے بھی معاملہ پیچیدہ ہو گیا ہے۔چھتیس گڑھ میں بھی یہی کہانی ہے۔ پارٹی سابق وزیر اعلی رمن سنگھ کو کوئی موقع نہیں دینا چاہتی۔یہاں بھی دوڑ میں تین نام ہیں، لیکن بی جے پی نے انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ وہ ریاست کو ایک قبائلی وزیر اعلیٰ دے گی۔ ایسے میں پارٹی کسی قبائلی چہرے کی تلاش میں ہے، تاکہ اسے 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں بھی قبائلی ووٹ مل سکے۔اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ کے نام کے اعلان میں تاخیر کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پارٹی اب اپنے کسی پرانے نام پر شرط نہیں لگانا چاہتی۔ شیوراج سنگھ چوہان ہوں یا وسندھرا راجے اور رمن سنگھ۔ تینوں طویل عرصے سے ریاست کے سی ایم رہ چکے ہیں۔ پارٹی اب نئی ٹیم تیار کرنا چاہتی ہے۔
