ایم پی میں پھر ایک قبائلی پر ظلم

   

بی جے پی رکن اسمبلی کے بیٹے نے گولی ماردی
بھوپال: مدھیہ پردیش میں قبائلیوں کے ساتھ ظلم کے معاملے لگاتار بڑھ رہے ہیں۔ سدھی پیشاب واقعہ کا معاملہ ابھی ٹھنڈا بھی نہیں ہوا ہے، اور اب سنگرولی میں ایک قبائلی نوجوان کو گولی سے زخمی کرنے کا معاملہ منظر عام پر آیا ہے۔ متاثرہ شخص کے مطابق سنگرولی بی جے پی رکن اسمبلی رام للو ویشیہ کے بیٹے وویک ویشیہ نے اس پر قاتلانہ حملہ کیا۔ فی الحال متاثرہ آدی باسی نوجوان خطرے سے باہر ہے، لیکن واقعہ کے بعد سے ملزم وویک ویشیہ فرار ہے۔ پولیس نے متاثرہ کے بیان کی بنیاد پر ملزم کی تلاش شروع کر دی ہے۔معاملہ سنگرولی ضلع کے موربا کا ہے جہاں پر معمولی تنازعہ کو لے کر سنگرولی کے بی جے پی رکن اسمبلی رام للو ویشیہ کے بیٹے وویک ویشیہ نے قبائلی نوجوان سوریہ کھیروار کو گولی مار دی۔ گولی لگنے کے بعد سوریہ کھیروار کو فوراً اسپتال پہنچایا گیا، جہاں اس کا علاج کیا جا رہا ہے۔واردات بوڑھی مائی مندر کے پاس جمعرات کی شام تقریباً ساڑھے چھ بجے کی ہے۔ جانکاری ملتے ہی پولیس فوراً اسپتال پہنچی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق واردات کے تقریباً چار گھنٹے بعد بھی پولیس ایف آئی آر لکھنے میں ٹال مٹول کرتی رہی۔ متاثرہ فریق کا کہنا ہے کہ الٹا زخمی پر ہی دباؤ بنایا جاتا رہا کہ حملہآور کا نام نامعلوم بتا دے۔ لیکن جب مقامی لوگوں نے پولیس انتظامیہ پر اس سنگین واقعہ کو لے کر دباؤ بنایا تب پولیس نے رکن اسمبلی کے بیٹے پر دفعہ 307، 25 آرمس ایکٹ کے تحت معاملہ درج کیا۔بتایا جا رہا ہے کہ بی جے پی رکن اسمبلی رام للو ویشیہ کے بیٹے وویک ویشیہ کا ریکارڈ مجرمانہ ہے۔ اس سے قبل بھی اس پر محکمہ جنگلات کے اہلکاروں کے ساتھ مار پیٹ کا الزام ہے۔