ایم پی ڈی اروند کی اُردو صحافت سے ملاقات

   

اقلیتوں کو قریب کرنے کی کوشش ، کانگریس اور بی آر ایس پر تنقید
نظام آباد۔22 اگسٹ ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز )رکن پارلیمنٹ نظام آباد بی جے پی مسٹر ڈی اروند بی جے پی کی اقلیتوں کو قریب کرنے کی پالیسی کے تحت پہلی مرتبہ اُردو صحافت سے ملاقات کرنے کیلئے مقامی کلاسک فنکشن ہال پہنچے اور بی جے پی قائدین کے ہمراہ صحافتی کانفرنس سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کے بعد سے کانگریس و بی آرایس دیگر جماعتوں نے مسلمانوں کو ووٹ بینک کی طرح استعمال کیا ہے ۔ لیکن بی جے پی مسلمانوں کو ہندوستانیوں کی حیثیت سے دیکھتے ہوئے ان کی فلاح وبہبودی کیلئے اقدامات کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی کو ووٹ دیناپسند نہیں ہے تو نوٹا پر ووٹ دیجئے لیکن کانگریس اور بی آرایس کو ووٹ مت دیجئے اس کے باوجود بھی مودی کی کامیابی یقینی ہے ۔ اروند نے کہا کہ مودی کی مسلم دوستی کے باعث سعودی عرب اور دبئی کی حکومتوں نے مودی کو ایوارڈ سے نواز ا ہے ۔ ترقیاتی کاموں کی انجام دہی میں بغیر کسی کمیشن کے کاموں کو انجام دیا جارہا ہے 4500 کروڑ روپئے ریلوے ڈبل لائن ، 136 کروڑ روپئے سے ارسہ پلی پر برج کی تعمیر عمل میں لائی جارہی ہے اور نظام آباد ، بودھن ، رنجل و دیگر مقامات پر 216 کروڑ روپئے سے اقامتی مدارس کی تعمیر عمل میں لائی جارہی اس میں ریاستی حکومت کا حصہ بھی ہے لیکن ریاستی حکومت اپنی جانب سے کرنے کا دعویٰ کررہی ہے جو سراسر غلط ہے۔ اس موقع پر ضلع بی جے پی صدر بسوا لکشمی نرسیا ، بی جے پی کے ریاستی رکن دھن پال سوریہ نارائنا کے علاوہ اقلیتی مورچہ کے صدر محمد خضر ایاز ،شیخ انور ، شیخ دلدار ، امجد خان ، افسری بیگم، لطیف اور حسین کے علاوہ دیگر موجود تھے ۔