ایم پی کی خاتون صحافی سے بدسلوکی کو تادیبی کمیٹی سے تحقیقات کا مطالبہ

   

نئی دہلی۔ 17 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) بھارتیہ جنتا پارٹی کے بھوپیندر یادو نے راجیہ سبھا کے ایک رکن کے ذریعہ ایک خاتون صحافی کے ساتھ بدسلوکی کرنے کے معاملے کو آج ایوان میں اٹھایا اور کہا کہ اسے ایوان کی تادیبی کمیٹی کو بھیجا جانا چاہئے۔ وقفہ صفر کے دوران مسٹر یادو نے نظام کا سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک ٹیلی ویژن چینل نے تقریباً 200صحافیوں کو نوکری سے نکال دیا ہے اور اس معاملے میں اس چینل کی ایک خاتون صحافی سے بدسلوکی کی گئی ہے ۔انہوں نے التزامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایوان کے کسی رکن پارلیمنٹ کے ساتھ بدسلوکی ہوتی ہے تو معاملہ تادیبی کمیٹی کوبھیجا جاتا ہے لیکن ایوان کے کسی رکن نے ایک خاتون صحافی کے ساتھ بدسلوکی کی ہے ،اس لئے یہ معاملہ بھی تادیبی کمیٹی کے پاس بھیجا جانا چاہئے۔ اس سے پہلے راجیو چندر شیکھرن نے وقفہ صفر میں ہی کہا کہ ٹی وی چینل نے 200صحافیوں کو نوکری سے نکال دیا ہے ۔یہ میڈیا کی آزادی پر حملہ ہے ۔اس پر کانگریس کے جے رام رمیش،بی کے ہری پرساد اور بھوونیشور کالیتانے سخت اعتراض ظاہر کیا اور کہا کہ مسٹر چندر شیکھرن کا میڈیا چینل کا کاروبار ہے۔

محمد خلیل باندھ پی ڈی پی سے مستعفی
سری نگر، 17 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر محمد خلیل باندھ بدھ کے روز پارٹی کی بنیادی رکنیت سے مستعفی ہوئے ۔ خلیل باندھ نے اپنے استعفیٰ نامے میں پارٹی پر الزام عائد کرتے کہا ہے : ‘مفتی محمد سعید کے انتقال کے بعد پی ڈی پی نے اپنے بنیادی اصولوں کے ساتھ سمجھوتہ کیا ہے اور فیصلہ سازی کے عمل میں سینئر لیڈروں کو نظر انداز کیا جاتا ہے ‘۔ باندھ نے مزید کہا کہ پارٹی میں تجربہ کار لیڈروں کو نطر انداز کیا جاتا ہے اور ان کی توہین بھی کی جاتی ہے ۔ بتادیں کہ محمد خلیل باندھ ضلع پلوامہ کے صدر تھے ۔