ایندھن بحران:ملک کی کئی ریاستوں میں حالات انتہائی سنگین

   

پٹرول ، ڈیزل کی سپلائی میں کٹوتی شروع، 1000 کا سلنڈر 3 ہزار میں، فیکٹریاں بند، ریلوے اسٹیشنوں پر مزدوروں کا ہجوم!

نئی دہلی : یکم اپریل (ایجنسیز) امریکہ۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے سبب مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے بحران کا اثراب ہندوستان کی مقامی بازاروں تک پہنچنے لگا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں پٹرول۔ ڈیزل اورایل پی جی کی قلت نے صنعت سے لے کر روزمرہ کی عوامی زندگی تک ہر چیز کو درہم برہم کردیا ہے۔ راجستھان میں کمرشل ایل پی جی کی کمی کی وجہ سے ٹیکسٹائل، ماربل اور کیمیکل فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں، جس سے ہزاروں مزدور بے روزگار ہو کر گھروں کو لوٹنے پر مجبور ہیں۔ یہی صورتحال گجرات، ممبئی مختلف ریاستوں میں دیکھی جارہی ہے۔ممبئی میں بھی یہی صورتحال ہے، لوگ ایک سلنڈر کے لیے لمبی لائن میں کھڑے ہیں اور بلیک مارکیٹنگ کی وجہ سے قیمتیں دوگنا اور 3 گنا بڑھ گئی ہیں۔ گجرات کے سورت میں بھی گیس کی شدید قلت کی وجہ سے بڑے پیمانے پر غیر مقیم مزدوروں کی نقل مکانی شروع ہوگئی ہے۔ متاثرہ مزدوروں کا کہنا ہے کہ جب کھانا پکانا ہی مشکل ہو گیا ہے تو شہر میں رہنا بیکار ہے۔ حکومتی دعوؤں کے باوجود زمینی صورتحال سنگین بنی ہوئی ہے۔خلیجی ممالک میں جنگ کے اثرات راجستھان میں بھی محسوس ہونے لگے ہیں۔ یہاں ٹیکسٹائل سے لے کر سیرامکس اور ماربل تک کی کمپنیوں کو کمرشل ایل پی جی سپلائی کی قلت نے صنعتی سپلائی چین کو درہم برہم کر دیا ہے۔ ہزاروں فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں جس سے مزدوروں کی بڑی تعداد بے روزگار ہو گئی ہے۔ فیکٹریاں بند ہونے سے کووڈ جیسی صورتحال کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ جو مزدور بچے بھی ہیں ان کے ایل پی جی گھریلو سلنڈر نہ ملنے سے کھانے پینے کا بھی بحران پیدا ہوگیا ہے۔موجودہ حالات سے ہندوستان کی اقتصادی راجدھانی ممبئی کے کچن بھی متاثر ہوئے ہیں۔ لوگ راشن کے لیے نہیں بلکہ ایک سلنڈر کے لیے لائن میں کھڑے ہیں۔ اس دوران بحران کا فائدہ اٹھانے والے بلیک مارکیٹرز بھی سرگرم ہو گئے ہیں۔ عام لوگوں کا الزام ہے کہ جو سلنڈر پہلے 900-1000 روپے کا ہوتا تھا اب 2500 سے 3000 روپے میں دیا جارہا ہے۔ اتنی بھاری قیمت ادا کرنے کے بعد بھی اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ انہیں سلنڈر ملے گا۔ مدھیہ پردیش میں ایک بڑے پٹرول پمپ کو ایندھن کی فروخت میں کٹوتی کرنی پڑی ہے جس سے عام لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

جیٹ ایندھن کی قیمتوں میں 100 فیصد سے زیادہ اضافہ
نئی دہلی، یکم اپریل (یو این آئی) تیل کی مارکیٹنگ کمپنیوں نے مغربی ایشیا کے بحران کی وجہ سے سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث بدھ سے ہوابازی کے ایندھن کی قیمت میں 100 فیصد سے زیادہ کا اضافہ کر دیا ہے ۔ ملک کی سب سے بڑی آئل مارکیٹنگ کمپنی انڈین آئل کارپوریشن سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق، آج یکم اپریل سے دہلی میں ایوی ایشن فیول 207341 روپے فی کلو لیٹر کا ہوگیا ہے ۔ مارچ میں اس کی قیمت 96,638 روپے تھی۔ اس طرح اس میں 1,10,703 روپے یعنی 115 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ اسی طرح کولکتہ میں ہوا بازی کا ایندھن آج سے 107 فیصد مہنگا ہوکر 205955 روپے فی کلو لیٹر ہوگیا ہے ۔ ممبئی میں اس کی قیمت 116 فیصد اور چنئی میں 114 فیصد بڑھ کر بالترتیب 194969 روپے اور 214598 روپے فی کلو لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔

صورتحال یہ ہے کہ ایڈوانس ادائیگی کے باوجود کمپنی کی طرف سے سپلائی کلیئر نہیں ہو رہی ہے۔ بار بار سپلائی بھیجنے کی یقین دہانی کے باوجود ایندھن ابھی تک نہیں پہنچا ہے۔ اس وجہ سے عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے اور آنے والے دنوں میں صورتحال مزید خراب ہونے کا اندیشہ ظاہر کیاجارہا ہے۔نقل مکانی کرنے والے لوگوں کا خیال ہے کہ کم از کم ان کے گاؤں میں ایندھن، لکڑی اور کھیتی باڑی جیسے ذرائع ہیں، جہاں وہ اپنا گزر بسر کرسکیں گے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر بین الاقوامی کشیدگی کم نہ ہوئی تو آنے والے دنوں میں ایندھن کی قلت مزید بڑھ سکتی ہے۔ عام لوگوں میں اس بات سے شدید غصہ پایا جاتا ہے۔ لوگوں کا حکومت سے ایک ہی مطالبہ ہے کہ ’’جنگ چاہے کہیں بھی ہو ہمارے گھر کے چولہے بجھنے نہیں چاہئیں‘‘۔