اینٹی باڈی کاک ٹیل انجکشن لینے متمول طبقہ راغب

   

قوت مدافعت میں اضافہ سے متعلق ماہرین کی رائے کے بعد انجکشن لینے والوں کی تعداد میں اضافہ
حیدرآباد۔16 جنوری(سیاست نیوز) کورونا وائرس سے محفوظ رہنے کیلئے دیئے جانے والے ٹیکہ کے حصول میں شہریوں کی جانب سے کی جانے والی کوتاہی اور اہمیت نہ دیئے جانے کی شکایات عام ہیں لیکن دوسری جانب شہر کے متمول طبقہ کی جانب سے کورونا وائرس کے ٹیکہ کے علاوہ مولوکلونل اینٹی باڈی کاک ٹیل انجکشن حاصل کیا جا رہاہے جس کے متعلق سال گذشتہ ماہرین نے اس بات کی توثیق کی تھی کہ کوک ٹیل انجکشن کورونا وائرس کا شکار ہونے سے محفوظ رکھنے میں معاون ثابت ہورہا ہے۔سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ جس وقت کورونا وائرس کا شکار ہوئے تھے انہیں یہ انجکشن دیا گیا تھا اور بعدازاں اس انجکشن کے متعلق تحقیق کا سلسلہ جاری تھا اور اس پر ماہرین کی رائے حاصل کرنے کے بعد ماہرین نے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے نہ سہی بلکہ اس کے ذریعہ جسم میں موجود قوت مدافعت کو مستحکم بنانے میں کارگر اور انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا تھا اور شہر حیدرآباد میں اس انجکشن کے استعمال اور نتائج کے منظر عام پر لائے جانے کے بعد یہ انجکشن حاصل کرنے والوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہونے لگا ہے اور متمول افراد بالخصوص سرکردہ تاجرین‘ سیاستداں‘ صنعت کار ‘ سرکردہ کمپنیوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز عہدیدارو ںکی جانب سے اس Cocktailڈرگ کا استعمال کیا جانے لگا ہے۔Monoclonal Body کے ذریعہ کورونا وائرس سے محفوظ رہنے کی توثیق کے بعدشہر حیدرآباد کے بیشتر سرکردہ کارپوریٹ دواخانوں میں یہ انجکشن دیا جانے لگا ہے جس کی قیمت 1.30 لاکھ سے 1.50 لاکھ کے درمیان ہے اور اس ایک انجکشن میں دو افراد کو انجکشن دیا جاسکتا ہے ۔شہر کے کارپوریٹ دواخانوں میں دیئے جانے والے اس انجکشن کے متعلق ڈاکٹرس نے بتایا کہ 1گھنٹے تک یہ انجکشن گلوکوز کی طرح چڑھایا جاتا ہے اور اس کے بعد ایک گھنٹہ مریض کی نگہداشت کے بعد اسے ڈسچارج کردیا جاتا ہے ۔ذرائع کے مطابق فی کس 65تا75 ہزار کی قیمت میں حاصل ہونے والے اس انجکشن کو حاصل کرنے والوں کی تعداد میں اومی کرون کی لہر کے بعد تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور کئی افراد جو یہ اخراجات برداشت کرنے کے متحمل ہیں وہ کلونل اینٹی باڈی کوکٹیل انجکشن حاصل کرنے لگے ہیںتاکہ کسی بھی طرح کے کورونا وائرس کے امکانی خدشہ سے محفوظ رہ سکیں ۔ م