فوج میں شمولیت اور چین کیساتھ سرحدی کشیدگی کے دوران لداخ میں تعیناتی کیلئے تیار
نئی دہلی : ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن
(DRDO)
نے پوکھران کے آرمی رینج میں وار ہیڈ کا استعمال کرتے ہوئے اینٹی ٹینک میزائل ’’ناگ‘‘ کے آخری تجربہ کی کامیابی کے ساتھ تکمیل کی۔ یہ تجربہ چہارشنبہ کی صبح 6:45 بجے کیا گیا۔ انفراریڈ کے ذریعہ امیج کی تلاش کرنے والے 4 کیلومیٹر رینج کا میزائل ہندوستانی فوج میں شامل کرنے کیلئے اب تیار ہوگا۔ ڈی آر ڈی او نے 19 اکتوبر کو اڈیشہ کے بالاسور ٹسٹنگ رینج سے 10 کیلومیٹر سے زیادہ کے فاصلے پر نشانہ لگانے والے اینٹی ٹینک میزائل کا ہیلی کاپٹر تجربہ کیا تھا جس کے بعد ناگ میزائل کا یہ کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔ سینئر عہدیداروں کے مطابق ناگ اینٹی ٹینک میزائل مشرقی لداخ سیکٹر جیسے مقامات پر تعینات کرنے کیلئے تیار ہے کیونکہ اس میزائل کے ہتھیاروں کی تلاش اور نشانہ کو مار کرنے کے ساتھ اس کے استعمال کے 10 کامیاب تجربات کئے جاچکے ہیں۔ ڈی آر ڈی او تقریباً گزشتہ ایک ماہ سے میزائل ٹسٹنگ میں مصروف ہے۔ اس ماہ کے اوائل میں 1,000 کیلومیٹر رینج کے سب سونگ کروز میزائل ’’نربھئے‘‘ کا تجربہ کیا گیا تھا، اس تجربہ کے دوران اس میں خرابی پیدا ہوگئی تھی۔ توقع کی جارہی ہے کہ بوسٹر میں اس خرابی کے نشاندہی کرلی گئی ہے اور میزائل ٹیم کی جانب سے اس کو ٹھیک بھی کرلیا گیا ہے۔ آنے والے مہینوں میں اس کا تجربہ کیا جائے گا۔ ناگ میزائل کے کامیاب تجربے سے ہندوستانی فوج کو اب 4 کیلومیٹر رینج کے ہتھیار اسرائیل یا امریکہ سے درآمد کرنے کی مزید ضرورت نہیں ہوگی۔ لداخ میں پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے حملے کے بعد ہنگامی حالات میں اسرائیل سے تقریباً 200 اسپائک اینٹی ٹینک میزائل خریدے گئے تھے۔ 15 جون کو گلوان وادی میں چینی فوج کے ساتھ کشیدگی کے بعد اسپائک میزائل خریدے گئے تھے۔ پی ایل اے کی جانب سے راکٹس اور ٹینکس کی تعیناتی کے بعد اینٹی ٹینک میزائل کی خریداری کی ضرورت محسوس کی گئی تھی۔
