غیرقانونی سرگرمیوں کے انسداد کا ترمیمی بل پارلیمنٹ میں منظور، راجیہ سبھا میں حکومت کو تیسری کامیابی
نئی دہلی ۔ 2 اگست (سیاست ڈاٹ کام) حکومت کو ایک بڑی کامیابی کے طور پر پارلیمنٹ نے جمعہ کو انسداد دہشت گردی قانون میں کلیدی ترمیم کو منظور کرلیا جس کی رو سے مرکز اور ریاستوں کو بعض افراد کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے ان کی جائیدادیں ضبط کرنے کا اختیار حاصل ہوگیا ہے۔ غیرقانونی سرگرمیوں (کے انسداد) سے متعلق ترمیمی بل دراصل 1967 کے غیرقانونی سرگرمیوں کے انسداد کے قانون میں ترمیم کرنا تھا۔ راجیہ سبھا میں بل 42 کے مقابلے 147 ووٹوں سے منظور کرلیا گیا۔ کانگریس اور بی ایس پی نے بھی اس بل کی تائید کی۔ قبل ازیں ایوان نے اپوزیشن کی تائید یافتہ ایک تحریک کو مسترد کردیا جس میں اس ترمیم کو منتخب کمیٹی سے رجوع کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ اپوزیشن کی تحریک کی تائید میں 85 اور مخالفت میں 104 ووٹ ڈالے گئے تھے۔ اس ترمیمی بل کو لوک سبھا میں 24 جولائی کو منظور کرلیا گیا تھا۔ وزیرداخلہ امیت شاہ نے بحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ قانون صرف دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے استعمال کیا جائے گا اور سرکاری ایجنسیوں کو دہشت گردوں سے چار قدم آگے رہنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیاکہ کانگریس محض اپنے سیاسی فائدہ کیلئے دہشت گردی کو مذہب سے جوڑتے ہوئے اس قانون کو ایک رنگ دینے کی کوشش کررہی ہے۔ امیت شاہ نے الزام عائد کیا کہ مکہ مسجد اور سمجھوتہ ایکسپریس دھماکوں کے مقدمات میں جس کے ملزمین بری ہوچکے ہیں ایک مخصوص مذہب کے افراد کو ماخوذ کرنے کیلئے کانگریس اس قانون کا بیجا استعمال کررہی تھی۔ پارلیمنٹ کے رواں سیشن میں یہ تیسری قانون سازی تھی جو راجیہ سبھا میں رکاوٹوں کو عبوری کرتی ہوئی منظور ہوگئی جہاں (ایوان بالا) میں حکمراں جماعت کو اکثریت حاصل نہیں ہے۔
قبل ازیں اپوزیشن کی حکمت عملی کو ناکام بناتے ہوئے حکومت نے آئی ٹی آئی ترمیمی بل اور طلاق ثلاثہ بل کو منظور کروالیا تھا۔ امیت شاہ نے الزام عائد کیا کہ کانگریس چاہتی ہیکہ اہمیت اس بات کی ہیکہ تنظیموں کو نہیں بلکہ دہشت گردوں کی شناخت ونشاندہی کی جائے۔ سمجھوتہ کیس کا حوالہ دیتے ہوئے امیت شاہ نے الزام عائد کیا کہ کانگریس کے دور میں کسی دہشت گردی کے واقعہ کی ایک مخصوص مذہب کا ملزم ہوتا تھا اور کسی دوسرے مذہب کے افراد کو نشانہ بنایا جاتا تھا۔ وزیرداخلہ نے اس قانون کو منظوری کیلئے تمام جماعتوں سے تائید کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ دہشت گرد ساری انسانیت کے دشمن ہوتے ہیں۔ انہوں نے قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کے مقدمات کی یکسوئی اور خاطیوں کو سزاء کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ مختلف مقدمات کے 91 فیصد مجرمین کو جرم کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔ یکم ؍ جون 2014ء سے جولائی 2019ء کے دوران 131 چارج شیٹ پیش کئے گئے۔ 221 افراد کو مجرم قرار دیا گیا تھا اور 92 افراد کو عدالتوںنے منسوبہ الزامات سے بری کردیا تھا۔ جہادی سرگرمیوں کے خلاف 109 اور بائیں بازو کی انتہاء پسندی کے خلاف 27 مقدمات درج کئے گئے۔ شمال مشرق میں 47 مقدمات اور خالصتان گروپوں کے خلاف 14 مقدمات درج کئے گئے تھے۔ حوالہ کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف 45 مقدمات درج کئے گئے۔ کانگریس کے لیڈر پی چدمبرم نے سوال کیا کہ کیوں کسی انفرادی شخص کو دہشت گرد قرار دیا جائے جبکہ اس تنظیم پر پہلے سے امتناع عائد ہوتی ہے جس سے اس (شخص) کا تعلق ہوتا ہے۔ کانگریس کے ڈگ وجئے سنگھ نے کہا کہ حکومت کی نیت پر کانگریس کو کوئی بھروسہ نہیں ہے لیکن امیت شاہ نے ان کے اندیشوں کو مسترد کرتے ہوئے سنگھ سے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’’ڈگ وجئے سنگھ جی غصہ میں نظر آرہے ہیں۔ ان کیلئے یہ فطری بات ہے کیونکہ وہ حال ہی میں الیکشن ہارے ہیں‘‘۔
