این آر سی ، سی اے اے اور این پی آر کے خلاف جدوجہد عوامی تحریک میں تبدیل

   

مسلمانوں اور ہندوؤں میں نفاق پیدا کرنے بی جے پی کی سازش ، سید عزیز پاشاہ و دیگر کا خطاب
حیدرآباد /25 ڈسمبر ( پریس نوٹ ) کمپیونسٹ پارٹی آف انڈیا نامپلی شاخ کے زیر اہتمام منعقدہ این آر سی ، سی اے اے اور این پی آر کے خلاف عوامی جلسہ مہدی پٹنم چوراہا پر خطاب کرتے ہوئے جناب سید عزیز پاشاہ سابق رکن راجیہ سبھا نے کہا کہ طلبہ نوجوانوں کی یہ لڑائی اب عوامی تحریک میں تبدیل ہوگئی ہے ۔ کیونکہ بی جے پی کے خفیہ ایجنڈہ میں ایک نکاتی پروگرام ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان دراڑ پیدا کرنے کی سازش کو ملک کے سیکولر عوام نے بخوبی اندازہ کرلیا ہے ۔ جناب عزیز پاشاہ نے کہا کہ اس قومی ملکی لڑائی میں سب ہی طبقات ہندو مسلم سکھ ، عیسائی شامل ہیں ۔ عزیز پاشاہ نے دہلی ، لکھنو ، بنگلور ، منگلور ، گلبرگہ کے علاوہ ممبئی ، کلکتہ ، مدراس ( چینائی ) میں ہوئے زبردست احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ ملک میں مہنگائی نقطہ عروج پر پہونچ چکی ہے ۔ قومی مجموعی پیداواری صلاحیت 3 فیصد کی شرح پر رک گئی ہے ۔ نیز بے روزگاری صنعتوں کی پیداواری صلاحیت 2 فیصد تک پہونچ گئی ہے ۔ اس لئے بی جے پی اپنی تمام تر ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی سازش کے طور پر ان امور کو موضوع بحث بنایا ہے ۔

حیدرآباد کی علاقائی سیاسی جماعت کی ناکامی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’بڑے بے آبرو ہوکر جھارکھنڈ سے نکلے ‘‘کے مصداق نشستیں تو حاصل نہ کرسکے ۔ لیکن سیکولر ووٹوں کی تقسیم کے ذریعہ اپنے تجارتی مالی مفادات کی تکمیل کرلی ۔ عزیز پاشاہ نے کہا کہ اب یہ تحریک ملک کے باہر بھی پروان چڑھ رہی ہے ۔ عزیز پاشاہ نے نیتی ایوگ پلاننگ کمیشن ) اور عالمی معاشی اداروں کے حوالے سے کہا کہ ملک کو کنگال بنادنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ۔ جناب عثمان الہاجری نے کہا کہ اس لڑائی میں مسلمانوں سے زیادہ غیر مسلم بھائیوں کا اشتراک ہے ۔ اس لئے حکومت پریشان ہے تاہم ایک مثبت پہل ہے ۔ سماجی جہد کار ، راجندر ، مشتاق ، عظمت اللہ ، محمد غوث نے بھی اس جلسہ سے خطاب کیا ۔ جناب عزیز پاشاہ نے اپنے خطاب میں تلنگانہ کے وزیر اعلی کے چندر شیکھر سے مطالبہ کیا کہ وہ جھوٹی تسلیوں کے ذریعہ ریاستی عوام کو گمراہ یا تاریکی میں رکھنے کی کوشش نہ کریں ۔ جناب عزیز پاشاہ نے کہا کہ مرکزی حکومت کی غلطیوں کی سزاء کا فیصلہ جھارکھانڈ سے شروع ہوچکا ہے ۔ اور آنے والے دنوں میں فرقہ پرست جماعتو ںکا صفایا یقینی ہے ۔ اس موقع پر طلبہ نوجوانوں کے علاوہ خواتین نے بھی شرکت کی ۔