نئی بوتل میں پرانی شراب
نئی دہلی 24 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی حکومت نے ایسا لگتا ہے کہ این آر سی پر عمل آوری کے طریقہ کار میں تبدیلی لائی ہے اور این آر سی کی بجائے اب این پی آر نافذ کیا جائیگا ۔ این پی آر ‘ در اصل قومی آبادی کا رجسٹر ہے ۔ اس کیلئے حکومت نے 3,941 کروڑ روپے مختص کردئے ہیں۔ قومی رجسٹر آبادی 2011 میں بھی نافذ کیا گیا تھا تاہم اس بار اس میں تبدیلی کی گئی ہے اور اس بار سی اے اے کو ذہن میں رکھتے ہوئے شناختی تفصیلات بھی طلب کی جا رہی ہیں۔ این پی آر کے عمل کو مردم شماری 2021 سے مربوط کیا جا رہا ہے تاہم اس بار نئی تفصیلات جیسے شناخت ‘ تاریخ پیدائش اور اسی طرح کے دوسرے دستاویزات طلب کئے جاسکتے ہیں تاکہ کسی بھی شخص کی شہریت کو پرکھا جاسکے ۔ جو لوگ ملک بھر میں سی اے اے اور این آر سی کی مخالفت کر رہے ہیں انہیں این پی آر کی بھی مخالفت کرنا لازمی ہے ۔ این پی آر کا متبدلہ طریقہ کچھ اور نہیں بلکہ این آر سی ہی ہے اور اس کے بعد حکومت کو نئے این آر سی کی ضرورت ہی نہیں ہوگی ۔ تاہم مرکز نے کہا ہے کہ این پی آر کی بنیاد پر این آر سی تیار کرنے کی فی الحال کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے ۔
