خلیج سے واپس اکثر افراد و خواتین کے پاسپورٹس میں نام اور تاریخ میں تضاد
حیدرآباد۔یکم جنوری، ( سیاست ڈاٹ کام ) حیدرآباد کے کئی افراد جو ملازمت کی تلاش میں سعودی عرب جانے کیلئے اپنی دستاویزات میں درج عمر اور تاریخ پیدائش میں جعلسازی کی تھی اب وہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ خود اپنے ہاتھوں مشکلات میں پھنس رہے ہیں۔ 1980-90 کی دہائیوں میں تاریخ پیدائش اور دیگر شخصی تفصیلات میں تبدیلی اور جعلسازی عام معمول تھی لیکن جو اب ہندوستان واپس آچکے ہیں وہ خود کو مشکل میں پائیں گے۔ سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر پر عمل آوری کی صورت میں ایسے افراد کے پاس مختلف ناموں پر مختلف عمر، تاریخ پیدائش ہوں گے اور انہیں اپنے دستاویزات درست کروانے کیلئے عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹانا پڑ سکتا ہے۔ سعودی عرب میں ملازمت کیلئے اقل ترین عمر 22 سال درکار تھی اور یہ مسئلہ بالعموم شہر کے اقلیتی طبقہ میں بہت زیادہ پایا گیا ہے کیونکہ شہر کے اکثر نوجوان ملازمت کی خاطر پاسپورٹ بنایا کرتے ہیں چنانچہ اب وہ ایک مناسب حل تلاش کرنے کیلئے وکلاء سے رجوع ہورہے ہیں۔ ایک وکیل نے اس صورتحال پر کہا کہ ’ مسئلہ صرف عمر تک محدود نہیں ہے بلکہ پیدائش کی مختلف تاریخوں اور مختلف ناموں کی وجہ سے ان کی پریشانیوں میں کئی گنا اضافہ ہوسکتا ہے۔‘ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیدائشی صداقت نامہ پر پائی جانے والی تاریخ سے دیگر اسناد پر پائے جانے والے تاریخوں میں تضاد ایک دشوار مسئلہ ہے۔ اگر وہ مناسب توثیق شدہ دستاویزات پیش کرنے میں ناکام ہوگئے تو صداقتناموں کی تصحیح میں کافی وقت اور مرحلے درکار ہوں گے۔ عدالتوں سے رجوع ہونا بھی کوئی آسان عمل نہیں ہے بلکہ یہ ایک امتحانی صبر آزما عمل ہوگا۔خلیجی ملکوں سے واپس ہونے والوں کیلئے ان کی بیویوں کے ناموں کی تبدیلی بھی ایک اہم مسئلہ ہے کیونکہ شادی کے وقت لڑکی کا نام کچھ اور ہوتا ہے اور شادی کے بعد نام میں شوہر کا نام یا دیگر ناموں کی شمولیت کے ساتھ پاسپورٹ بنایا جاتا تھا جبکہ اسکولی سرٹیفکیٹ پر ان کے نام مختلف ہوتے ہیں۔