9 جنوری سے آغاز ، کل ہند اسٹوڈنٹ فیڈریشن کے پوسٹر کا ظہیر الدین علی خاں کے ہاتھوں رسم اجراء
حیدرآباد۔6جنوری(سیاست نیوز)شہری ترمیمی ایکٹ 2019‘ این آرسی اور این پی آر کے خلاف کل ہند اسٹوڈنٹ فیڈریشن ( اے آئی ایس ایف) عثمانیہ یونیورسٹی یونٹ کے زیر اہتمام 9جنوری سے زنجیری بھوک ہڑتال کا عثمانیہ یونیورسٹی کیمپس میںآغاز ہوگا ۔ مجوزہ ہڑتال کے پوسٹرس کی جناب ظہیر الدین علی خان کے ہاتھو ں رسم اجرائی عمل میں آئی۔ جناب ظہیر الدین علی خان نے ہڑتال کو کامیاب بنانے کی اپیل کی ہے۔ انہو ںنے کہاکہ طلبہ کی شروع کردہ تحریک کے آگے حکومتوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ انہو ںنے مزیدکہاکہ عثمانیہ یونیورسٹی حکومتوں کی مخالف عوام پالیسیوں کے خلاف احتجاج کا مرکز مانی جاتی ہے اور یہاں سے اٹھنے والی ہر تحریک کامیابی سے ہمکنارہوتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ سی اے اے‘ این آرسی او راین پی آر کے ذریعہ ملک کو بانٹنے کی سازشیں کی جارہی ہیں جس کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ ‘ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی‘ جواہرلال نہرو یونیورسٹی کے بشمول ملک کے سینکڑوں یونیورسٹیوں کے طلبہ سڑکوں پر اتر کر قومی یکجہتی کا مظاہرہ پیش کررہے ہیں۔ اس موقع پراے آئی ایس ایف عثمانیہ یونیورسٹی کے سکریٹری کے سرینواس نے کہاکہ سی اے اے ‘ این آرسی او راین پی آر صرف مسلمانوں کے خلاف نہیںہے بلکہ دلت ‘ پسماندگی کا شکار دیگر طبقات اور غریب عوام کے خلاف ہے اور اس کی ہرحال میں مخالفت ہر امن پسند ہندوستانی شہری کی ذمہ داری ہے۔سی اے اے ‘ این آرسی ‘ این پی آر کے خلاف زنجیری بھوک ہڑتال کی شروعات کی جارہی ہے ۔انہوں نے تلنگانہ کی تمام یونیورسٹیوں کے طلبہ سے اس کالے قانون کے خلاف آگے آنے کی اپیل کی ہے۔ ان کے علاوہ پریم ‘ ہری کرشنا‘ ہریش آزاد‘ سمیر ‘ سہیل‘ شیواریڈی‘ سدھاکر ‘ جانسن‘ انویش بھی اس موقع پر موجود تھے۔
