کولکاتا ۔ 4ستمبر(سیاست ڈاٹ کام)آسام میں این آرسی کی حتمی فہرست کی اشاعت کے بعد آسام سے متصل بنگال کے اضلاع کوچ بہار، جلپائی گوڑی اور علی پوردوار خوف و ہراس کا ماحول ہے ۔این آر سی میں جن 19لاکھ افراد کے نام شامل نہیں ہیں ان میں 11سے 12لاکھ افراد ہندو ہیں۔اس کے علاوہ دارجلنگ میں آ باد گورکھا آبادی بھی این آر سی سے ناراض ہیں۔چوں کہ آسام میں آباد ایک لاکھ گورکھاؤں کے نام این آرسی میں شامل نہیں ہیں۔آسام میں بنگالیوں کی فلاح وبہود کیلئے کام کرنے والی آرگنائزیشن بنگالی جنم مکتی باہنی کے چیرمین راجن سرکار نے کہا کہ ہم بنگالی ہندوؤں سے کہا گیا تھا کہ این آر سی سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔مگر آسام میں آباد بنگالی ہندؤں بڑی تعداد میں متاثر ہوگئے ہیں۔19لاکھ میں سے 12لاکھ بنگالی ہندو ہیں۔ہم جلد ہی ریاستی حکومت سے بات چیت کریں گے ۔کوکراجھاڑ کے سیمولتا پور کے رہنے والے رابوبندرا سرکار نے کہاکہ وہ 7ستمبر تک انتظار کریں گے ۔جس میں 21لاکھ ناموں کا اندراج ہونے والا ہے ۔ جلد ہی فارن ٹربیونل میں اپیل کی جائے گی۔گورکھا جن مکتی مورچہ کلے صدر بمل گورنگ نے ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک لاکھ سے زاید گورکھا جو آسام میں رہتے تھے کے نام این آر سی میں شامل نہیں ہے ۔