این آر سی کے خلاف ہفتہ کو ملین مارچ منعقد کرنے کا فیصلہ

   

مسترد شدہ درخواست اجازت پر نظر ثانی کیلئے کمشنر سے بات چیت
حیدرآباد۔31ڈسمبر(سیاست نیوز)مخالف شہریت ترمیمی ایکٹ 2019‘ قومی رجسٹربرائے شہریت ( این آرسی ) جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ذمہ داران نے اعلان کیاہے کہ 4جنوری ‘ ہفتہ کو2بجے نکلس روڈ پر ون ملین مارچ کسی بھی قیمت میںوہ منعقد کریں گے۔ تحریک مسلم شبان کے دفتر میںمنعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جناب محمد مشتاق ملک نے کہاکہ مذکورہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے ملین مارچ کی اجازت کے ضمن میںپولیس کی جانب سے مسترد کردہ درخواست پر دوبارہ نظر ثانی کرنے کی ہائی کورٹ نے سٹی پولیس کو ہدایت دی ہے۔ انہو ںنے مزیدکہاکہ ہائی کورٹ نے مانا ہے کہ ملین مارچ کو غیرجمہوری یا غیردستوری اقدام نہیںہے اور پولیس کو چاہئے کہ وہ حالات کا جائزہ لیتے ہوئے درخواست گذار کو اپنا احتجاجی پروگرام کرنے کی اجازت دے ۔ انہوں نے بتایا کہ ایک روز قبل جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ایک وفد کی ملاقات کوتوال شہر انجنی کمار سے بھی ہوئی تھی او ران سے بات چیت بھی کافی مثبت رہی ہے۔مشتاق ملک نے کہاکہ ہم دوبارہ پولیس سے ہائی کورٹ کی ہدایت کی روشنی میںرجوع ہوںگے اور ہمیںامید ہے کہ پولیس ہماری درخواست کو منظوری دی گی۔انہوں نے کہاکہ بڑے پیمانے پر مذکورہ احتجاج کی تیاری کی جارہی ہے اور اس مرتبہ کسی قسم کا یوٹرن نہیںہوگااور ہر قیمت پر یہ احتجاج ہوکر رہے گا۔مومنٹ فار پیس اینڈ جسٹس‘ مجلس بچائو تحریک‘ جماعت اہلحدیث‘ تنظیم انصاف‘ تنظیم آوازکے بشمول بہت ساری سیاسی اور سماجی تنظیموں کے احتجاج میںشامل ہونے کا بھی دعوی محمد مشتاق ملک نے کیا ہے اوربتایا کہ مارچ میںاعلان کے مطابق لوگ نہ صرف اکٹھا ہوںگے بلکہ پرامن انداز میں احتجاج کیاجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ اگر کوئی بھی اس احتجاجی پروگرام کے دوران شر انگیزی اورشر پسندی کرے گاتو اس کو منتظمین خود پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیں گے۔انہوں نے مزیدکہاکہ اگر پولیس اجازت دینے سے انکار کرتی ہے تو ہمارے پاس ’پلان بی ‘ ہے جس کے متعلق آنے والے دنوں میںہم خلاصہ کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ جمعرات کے روز پروگرام کامکمل بلیو پرنٹ بھی جاری کردیاجائے گا۔امجد اللہ خان خالد نے ہائی کورٹ میںہوئی بحث او رمباحثہ کی تفصیلا ت پیش کرتے ہوئے کہاکہ پولیس اگر اجازت دیتی ہے تو بہتر ہے ورنہ ہم کسی بھی صورت میںمعلنہ تاریخ کو مارچ نکالیں گے۔