این آر سی، این پی آر اور طلاق ثلاثہ کیخلاف احتجاج کرنے والی خواتین کی توہین

   

سوشل میڈیا پر تصاویر اور ناموں کیساتھ ہراج کی مذموم حرکت، قانونی ایجنسیوں کو سخت نوٹ لینے کی ضرورت

محمدمبشر الدین خرم
حیدرآباد۔2جنوری۔ سی اے اے ‘ این آر سی‘ این پی آر‘ طلاق ثلاثہ کے علاوہ دیگر معاملات میں مسلم خواتین کے سرگرم حصہ لینے اور عوامی شعور اجاگر کرنے کے علاوہ احتجاج میں شمولیت اختیار کرنے پر خوف وہراس کا شکار نفرت پھیلانے والے گوشوں کی جانب سے ایک مرتبہ پھر اوچھی حرکتوں پر اتر آئے ہیں ۔ ویب سائٹس کے ذریعہ مسلم خواتین کی تصاویر اور ان کے ناموں کا استعمال کرتے ہوئے ان کے ہراج کی مذموم حرکت کے بعد اب دوبارہ موبائیل اپلیکیشن کے ذریعہ ملک بھر کی سرکردہ مسلم خواتین اور لڑکیوں کو جو انسانی حقوق کے لئے آواز اٹھاتی ہیں اور جدوجہد کا حصہ بنی ہوئی ہیں ان کی تصاویر گشت کرواتے ہوئے ان کے ہراج اور ان کی قیمت لگاتے ہوئے انہیں ذہنی اذیت پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ وہ اپنے مقصد اور حقوق کے لئے جدوجہد ترک کردیں۔ ٹوئیٹر کے ذریعہ عوام میں شعور اجاگر کرنے اور مخالف مسلم فیصلوں اور احکامات کے علاوہ قوانین پر آواز اٹھانے والی خواتین کو نشانہ بنانے کی اس مذموم حرکت کا مقصد واضح ہے کہ وہ سماجی رابطہ کی ویب سائٹس اور ٹوئیٹر جیسے ایپلیکیشن پر عوام میں حقائق کو پیش کرنے سے کترانے لگ جائیں اور وہ ان پلیٹ فارمس سے اپنی عفت و عصمت کی خاطر غائب ہوجائیں۔ گذشتہ برس جولائی کے دوران اس طرح کی ایک ویب سائٹ پر جہاں مسلم خواتین اور لڑکیوں کی تصاویر کا استعمال کرتے ہوئے ان کے متعلق اہانت آمیز ریمارکس اور ان کے ہراج کے علاوہ ان کی عصمت وعفت کو گزند پہنچانے والے جملہ تحریر کئے جارہے تھے اور ان کی عزت کی دھجیاں اڑائی جا رہی تھیں جس پر شیوسینا رکن پارلیمنٹ پرینکا چترویدی نے وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے اس کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا تھا جس پر وزارت نے اس ویب سائٹ پر پابندی عائد کرنے کا جواب دیا تھا لیکن اب دوبارہ سے اسی طرح کی حرکت کی گئی ہے جس میں مسلم لڑکیوں اور خواتین کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ پرینکا چترویدی نے یکم جنوری 2022 کو منظر عام پر آنے والی اس نئی مذموم حرکت پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح حرکات میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی نہ کرنے کا نتیجہ ہے کہ دوبارہ ایسی حرکت کی گئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس ایپ کو تیار کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جانی چاہئے ایپ پر پابندی سے کوئی حل نہیں نکلے گا۔ اس نئے ایپ پر جن لڑکیوں اور خواتین کو نشانہ بنایا گیا ہے ان میں ملک بھر کی کئی سرکردہ خاتون جہد کار ‘خاتون صحافی کے علاوہ شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی دو خواتین شامل ہیں جن میں محترمہ خالدہ پروین اور محترمہ عائشہ منہاز شامل ہیں۔ محترمہ خالدہ پروین نے ان کے پروفائیل اور تصویر اور دیگر خواتین کے پروفائیل کے استعمال کے ذریعہ کی جانے والی حرکت کو انتہائی گھٹیا اور نفرت انگیزی کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلم خواتین پر گوشہ نشینی کا الزام عائد کرنے والے اب مسلم خواتین کی جدوجہد سے خوفزدہ ہونے لگے ہیں اسی لئے وہ اس طرح کی حرکتیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس حرکت پر سائبر کرائم سے رجوع ہوتے ہوئے شخصی طور پر شکایت درج کروائیں گی ۔ محترمہ خالدہ پروین نے بتایا کہ ملک بھر کی سرکردہ خواتین جو انسانی حقوق کے لئے جدوجہد کر رہی ہیں انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ وہ گوشہ نشینی اختیار کرلیں۔ملک بھر کی جن خواتین کو اس ایپ میں تصاویر کے ساتھ برائے فروخت اور ہراج کے لئے پیش کیا گیا ہے ان میں محترمہ عارفہ خانم شیروانی‘ محترمہ شہلہ راشد‘ محترمہ رانا ایوب‘ صدف جعفر‘ سفورا سرگرم‘محترمہ شبانہ اعظمی ‘محترمہ صبا نقوی کے علاوہ دیگر کئی اہم شخصیتیں شامل ہیں۔معروف صحافی و مصنف محترمہ صبا ء نقوی نے اس حرکت کو مسلم خواتین کی عصمت و آبرو پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مودی سرکار مسلم خواتین کے تحفظ کے دعوے کرتی ہے تو اب وزیر اعظم کے دفتر کی ذمہ داری ہے کہ وہ پولیس اور محکمہ انفارمیشن ٹکنالوجی کے عہدیداروں کو ہدایات جاری کریں کہ وہ اس حرکت میں ملوث تمام افراد اوراداروں کے خلاف کاروائی کریں اور ان لوگوں کو عوام کے سامنے لائیں۔محترمہ عائشہ منہاز نے انتہائی بے ہودہ مواد مسلم خواتین کے متعلق انٹرنیٹ پر موجود ہونے کے باوجود قانون نافذکرنے والی ایجنسیوں کی جانب سے اختیار کردہ خاموشی کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس حرکت کے خلاف قانونی کاروائی کریں گی۔م