مرکز کے کُل جماعتی اجلاس میں وضاحت، مسلمانوں کیخلاف کوئی بھی قانون ناقابل قبول
حیدرآباد 30 جنوری (سیاست نیوز) وائی ایس آر کانگریس پارٹی نے پارلیمنٹ اجلاس سے قبل مرکز کی جانب سے طلب کردہ کل جماعتی اجلاس میں شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کی اور این آر سی اور این پی آر کو متعارف کرنے سے باز رہنے کا مرکز کو مشورہ دیا۔ اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وائی ایس آر کانگریس رکن پدی ریڈی نے کہاکہ کل جماعتی اجلاس میں شہریت قانون متعارف کئے جانے کے بعد سے ریاستوں میں پیدا شدہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اُنھوں نے کہاکہ ملک بھر میں اقلیتوں اور سیکولر طاقتوں کی جانب سے مخالفت میں احتجاج کیا جارہا ہے لہذا وائی ایس آر کانگریس پارٹی اِس قانون کی مخالفت کرتی ہے۔ اُنھوں نے اجلاس میں کہاکہ جگن موہن ریڈی حکومت این پی آر اور این آر سی کے خلاف ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ملک میں پیدا شدہ عوامی بے چینی کو دور کرنا مرکز کی ذمہ داری ہے۔ حکومت کو ہٹ دھرمی کے رویہ کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ مذاکرات کے ذریعہ حکومت کو اقلیتوں میں پائے جانے والے شبہات کو دور کرنا چاہئے۔ پدی ریڈی نے کہاکہ وائی ایس آر کانگریس پارٹی اِس بات کو یقینی بنائے گی کہ اقلیتوں کو کوئی نقصان نہ ہو۔ شہریت قانون تین ممالک سے آنے والے غیر مسلموں کو ہندوستانی شہریت فراہم کرنے سے متعلق ہے۔ قانون سے مسلمانوں کو علیحدہ رکھنے کے نتیجہ میں اقلیتوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ حکومت ہند نے شہریت قانون جس انداز میں پیش کیا تھا، عمل آوری الگ انداز میں کررہی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ جس طرح 2011 ء میں مردم شماری کی گئی، اُسی طرح 2021 ء کی مردم شماری کی جانی چاہئے۔ مردم شماری کے عمل میں تبدیلیوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ چیف منسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی نے بھی اِس مسئلہ پر موقف واضح کردیا ہے۔