این آر سی اور این پی آر کے مسئلہ پر کے سی آر اور اسداویسی میں ملی بھگت: محمد علی شبیر

   

حیدرآباد میں شاہین باغ کیوں نہیں؟ کار کا اسٹیرنگ کہاں گیا، علماء کرام پرگتی بھون کا گھیرائو کریں
حیدرآباد۔ 20 فروری (سیاست نیوز) قانون ساز کونسل کے سابق قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے شہریت قانون این آر سی اور این پی آر پر کے سی آر اور اسد اویسی کے دوہرے معیارات کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ یہ دونوں قائدین عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف منسٹر نے کابینہ میں شہریت قانون واپس لینے کے لیے مرکزی حکومت سے اپیل کی ہے جبکہ انہوں نے یہ اعلان کرنے کی ہمت نہیں کی کہ شہریت قانون پر تلنگانہ میں عمل نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے این پی آر اور این آر سی پر چیف منسٹر کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حکومت کی حلیف مجلس کے صدر دیگر ریاستوں میں جذباتی تقاریر کررہے ہیں لیکن تلنگانہ میں چیف منسٹر کو این پی آر اور این آر سی کے خلاف موقف اختیار کرنے کا مطالبہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں شاہین باغ طرز پر احتجاج کا مشورہ دینے والے اسد اویسی اور انتخابی حلقہ حیدرآباد میں شاہین باغ قائم کرنے تیار نہیں ہیں۔ حیدرآباد میں حکومت اور مجلس کی ملی بھگت کے نتیجہ میں عوام کو احتجاج کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ ایک ہزار سے زائد خواتین کے خلاف مقدمات درج کئے گئے لیکن مجلس خاموش تماشائی بنی رہی۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ اسد اویسی دعوی کرتے رہے کہ ٹی آر ایس کی کار کا اسٹیرنگ ان کے ہاتھ میں ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اسٹیرنگ کام کرنا بند کرچنا ہے یا پھر کار سے اسٹیرنگ علیحدہ ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر اور اسد اویسی منصوبہ بند طریقے سے سیاہ قوانین کے سلسلہ میں عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔ 25 ڈسمبر کو علماء و مشائخین سے ملاقات کے دوران چیف منسٹر نے اندرون دو یوم سیاہ قوانین پر بیان دینے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوںنے غیر بی جے پی چیف منسٹروں کا اجلاس طلب کرنے کا اعلان کیا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ وعدوں کی تکمیل اور خاص طور پر مسلم مسائل پر چیف منسٹر نے ہمیشہ دھوکہ دیا ہے۔ 50 دن گزرنے کے بعد کابینہ کے اجلاس میں شہریت قانون واپس لینے مرکز سے اپیل کی گئی۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کابینہ نے یہ اعلان نہیں کیا کہ تلنگانہ میں شہریت قانون پر عمل نہیں ہوگا۔ انتہائی دبی اور کمزور آواز میں مرکز سے اپیل کی گئی۔ جبکہ 8 ریاستوں نے شہریت قانون کے خلاف اسمبلی میں قرارداد منظور کی ہے جن میں کیرالا، پنجاب، راجستھان، مغربی بنگال، مدھیہ پردیش اور پانڈیچری شامل ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر کب تک ڈبل گیم کے ذریعہ عوام کو دھوکہ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ریاستوں میں احتجاج کی اجازت ہے لیکن سکیولرازم کا دعوی کرنے والی کے سی آر حکومت اور اس کی حلیف جماعت مجلس احتجاج سے روک رہی ہے۔ صدر مجلس دیگر ریاستوں میں احتجاجی جلسوں میں شرکت کرتے ہوئے شاہین باغ طرز کے احتجاج اور جان کی قربانی دینے کا دعوی کررہے ہیں لیکن خود ان کے حلقے میں احتجاج کی اجازت نہیں۔ شہر میں احتجاج کی صورت میں مغلپورہ، ٹولی چوکی، چارمینار، شاہین نگر، بارکس، ملے پلی اور سعید آباد کے علاقوں میں ایک ہزار سے زائد خواتین کے خلاف مقدمات درج کئے گئے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ احتجاج کی اجازت نہ دینے کے پس پردہ اسد اویسی کا خوف ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ دوسری جماعتیں مسلم مسائل پر آواز بلند کریں۔ انہیں خوف ہے کہ دیگر جماعتوں کے میدان میں آنے سے ان کی سیاسی طاقت کمزور ہوجائے گی اور ان کی پارٹی کو نقصان ہوگا۔ سیاسی فائدے کے لیے وہ دوسروں کو احتجاج سے روک رہے ہیں۔ انہیں قوم و ملت کی نہیں بلکہ اپنے سیاسی فائدے کی فکر ہے۔ صرف جذباتی نعروں اور بھڑکائو بھاشن سے کام نہیں چلے گا۔ اگر واقعی مجلس کی قیادت احتجاج میں سنجیدہ ہے تو حیدرآباد میں شاہین باغ طرز کا احتجاج شروع کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سیاہ قوانین کے خلاف احتجاج میں مجلسی ارکان اسمبلی اور ان کے کارکن شرکت نہیں کرتے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ دیگر ریاستوں میں کانگریس کے خلاف اسد اویسی کی بیان بازی افسوسناک ہے جبکہ ملک بھر میں سیاہ قوانین کے خلاف کانگریس اپوزیشن احتجاج کی قیادت کررہی ہے۔ عوام کو سمجھنا چاہئے کہ چیف منسٹر کے سی آر اور اسد اویسی باہمی گٹھ جوڑ کے ذریعہ عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ گزشتہ چھ برسوں میں 12 فیصد مسلم تحفظات میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ محمد علی شبیر نے چیف منسٹر سے ملاقات کرنے والی مسلم مذہبی جماعتوں اور تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ پرگتی بھون کا گھیرائو کرتے ہوئے چیف منسٹر کو اپنی ناراضگی سے واقف کرائیں۔