این آر سی اور شہریت بل کے خلاف قرارداد کیلئے اسمبلی اجلاس طلب کیا جائے: محمد علی شبیر

   

کے سی آر کو مغربی بنگال کی تقلید کا مشورہ، منڈل سطح پر پرامن احتجاج کے لیے مسلمانوں سے اپیل
حیدرآباد۔ 19 ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل میں سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے کے سی آر سے مطالبہ کیا کہ اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کرتے ہوئے شہریت قانون اور این آر سی کے خلاف قرارداد منظور کریں۔ محمد علی شبیر نے آج مسلم تنظیموں کی جانب سے شہریت قانون کے خلاف منعقدہ کل جماعتی اجلاس میں شرکت کی اور کانگریس پارٹی کے موقف سے واقف کرایا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس شہریت قانون کی مخالفت کرتی ہے اور اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ جہاں تک این آر سی کے بائیکاٹ کا فیصلہ ہے، اس بارے میں وہ پارٹی فورم میں تبادلہ خیال کے بعد ہی موقف کا اظہار کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم تنظیموں کو چاہئے کہ وہ چیف منسٹر پر دبائو بنائیں کہ وہ مغربی بنگال، پنجاب اور دیگر کانگریس زیر اقتدار ریاستوں کی طرح این آر سی پر عمل نہ کرنے کا اعلان کریں۔ محمد علی شبیر نے مشورہ دیا کہ جمعہ کے موقع پر منڈل سطح تک مسلمانوں کی جانب سے پرامن ریالی کا اہتمام کرتے ہوئے سرکاری عہدیداروں کو یادداشت پیش کی جائے۔ منڈل ریونیو آفیسرس، آر ڈی اوس اور ضلع کلکٹرس کو یادداشت پیش کرتے ہوئے شہریت قانون اور این آر سی سے دستبرداری کا مطالبہ کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر جو مسلمانوں سے ہمدردی کے دعوے کرتے ہیں، انہیں اسمبلی میں قرارداد منظور کرتے ہوئے ثبوت دینا ہوگا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ جمہوری انداز میں مسلمانوں کو احتجاج کا حق حاصل ہے اور دیگر سکیولر سماجی اور سیاسی تنظیمیں احتجاج کی تائید کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف جذباتی تقاریر یا نعروں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ قربانی پیش کرنے کے لیے تیار ہونا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم احتجاج کے لیے پولیس سے خوفزدہ ہوجاتے ہیں اور جیل جانے سے گھبراتے ہیں۔ جب تک یہ خوف طاری رہے گا، ہم اپنے حقوق حاصل نہیں کر پائیں گے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ شہر کی ایک سیاسی جماعت کے دبائو میں مسلم تنظیموں نے ہاکی گرائونڈ پر اپنا احتجاج منسوخ کردیا۔ انہوں نے کہا کہ شہر کی مقامی سیاسی جماعت شہریت قانون اور این آر سی پر احتجاج سے دور ہے لیکن جلسہ عام کے ذریعہ ان مسائل کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کررہے ہے تاکہ ملک بھر میں یہ پیام دیا جائے کہ تلنگانہ کے مسلمان اور مسلم تنظیمیں اس کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی ملک بھر میں این آر سی اور شہریت قانون کے خلاف احتجاج میں شریک ہے۔