انٹرنتائج میں دھاندلیوں پر مباحث کا مطالبہ، مہلوک طلبہ کے خاندانوں کا کوئی پرسان حال نہیں
حیدرآباد۔21۔ ستمبر (سیاست نیوز) کانگریس کی طلبہ تنظیم این ایس یو آئی کی جانب سے اسمبلی کے گھیراؤ کی کوشش کی گئی ۔ تاہم پولیس نے احتجاجیوں کو گرفتار کرتے ہوئے احتجاج کو ناکام بنادیا ۔ انٹرمیڈیٹ طلبہ کی خودکشی کے واقعات اور نتائج میں بے قاعدگیوں کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی اسمبلی میں وضاحت کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ احتجاج منظم کیا گیا۔ ریاستی صدر بی وینکٹ اور دیگر قائدین کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ این ایس یو آئی قائدین نے کہا کہ طلبہ کی خودکشی کے ذمہ داروں کے خلاف حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ اسمبلی اجلاس کے دوران حکومت کو اس مسئلہ پر بیان دینا چاہئے تھا لیکن حکومت کی ناکامی کے سبب احتجاج منظم کیا گیا ہے ۔ وینکٹ نے کہا کہ پرچوں کی دوبارہ جانچ اور نشانات کی جانچ کے سلسلہ میں طلبہ کی جانب سے فیس ادا کرنے کے بعد حکومت نے مفت جانچ کرنے کا اعلان کیا۔ طلبہ کی فیس آج تک واپس نہیں کی گئی۔ طلبہ کی فیس کی واپسی کے بارے میں آر ٹی آئی سے اطلاعات حاصل کی گئی ۔ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ کے عہدیداروں نے اطلاع دی ہے کہ مارچ 2019 ء امتحانات کے سلسلہ میں 59878 طلبہ نے فیس داخل کی جبکہ جون 2019 ء میں 7585 طلبہ نے فیس ادا کی ۔ حکام نے بتایا کہ طلبہ کی فیس واپسی کا معاملہ عہدیداروں کے زیر غور ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ نے ابھی تک ایک کروڑ روپئے جمع کردیئے ہیں۔ یہ رقم کس طرح واپس کی جائے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ خودکشی کرنے والے طلبہ کے خاندانوں کو امداد کی فراہمی میں حکومت ناکام ہوچکی ہے ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کم از کم طلبہ کی جانب سے جمع کردہ رقم میں 2 تا 3 کروڑ روپئے اضافہ کرتے ہوئے مہلوک طلبہ کے افراد خاندان میں تقسیم کی جائے۔انہوں نے کہا کہ نتائج میں دھاندلیوں کے لئے گلو برینا کمپنی اور بورڈ آف انٹرمیڈیٹ کے عہدیدار شامل ہیں ، لہذا ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے ۔ وینکٹ نے کہا کہ مہلوک طلبہ کے افراد خاندان کو انصاف دلانے تک این ایس یو ائی کی جدوجہد جاری رہے گی۔