این ایس یو آئی کی نئی تعلیمی پالیسی کیخلاف’شکشابچاؤ دیش بچاؤ ‘ مہم

   

نئی دہلی : کانگریس کی طلبہ ونگ نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) نے نئی تعلیمی پالیسی کو ملک کے نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ بتاتے ہوئے جمعرات کو کہا کہ اس کے خلاف تمام ریاستوں میں ‘‘سکشابچاؤ دیش بچاؤ’’ مہم چلائے گی۔این ایس یو آئی کے قومی صدر نیرج کندن نے تعلیم بچاؤ دیش بچاؤ مہم کے آغاز کا لوگو جاری کرتے ہوئے آج یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ این ایس یو آئی کی یہ مہم دو ماہ تک جاری رہے گی اور دہلی میں قومی لیڈران کی موجودگی میں بڑا پروگرام کرکے اس کا اختتام ہوگا۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت سرکاری اداروں کو فروخت کر رہی ہے اور اس کی وجہ سے ملک کے نوجوانوں کے سامنے بالخصوص درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے طلباء کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے ۔ ان کاکہنا تھا کہ یہ حکومت اداروں کو بیچ کر ریزرویشن کے نظام کو ختم کرنے کا کام کر رہی ہے اور حکومت کی اسی پالیسی کے خلاف یہ مہم چلائی جا رہی ہے ۔نئی تعلیمی پالیسی کی مخالفت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کے ذریعے نجکاری کو فروخ دیاجارہا ہے اور اس سے غریب اور عام کسان کے بچوں کے لیے تعلیم حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی تنظیم شروع سے ہی اس پالیسی کی مخالفت کر رہی ہے لیکن مرکزی حکومت من مانی کر رہی ہے اور کسی کی بات نہیں سن رہی ہے ۔مسٹر کندن نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے مدت کارمیں تمام بڑے امتحانات کے انعقاد میں گھپلے ہوئے ہیں۔ اس حکومت نے پیپرز لیک کرائے ہیں اور طلباء کی زندگی سے کھیل کر کرپشن کے ذریعے اپنے چہیتوں کو فائدہ پہنچانے کا کام کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے ملک کے لاکھوں طلباء کا مستقبل خطرے میں پڑگیا ہے ، اس لیے مقابلہ جاتی امتحانات میں کورونا کی وجہ سے پیدا ہونے والے بحران کے باعث راحت دیتے ہوئے تمام مسابقتی امتحانات میں عمر میں دو سال کی رعایت دی جانی چاہیے ۔