ہندوستان کی نالندہ اور تکشیلا یونیورسٹیاں بھی زمانہ قدیم سے علم و دانش کا مرکز رہی ہیں
نئی دہلی : علم طاقت ہے ۔ بھارت کی مالا مال علمی صلاحیت ویدوں اور اپ نشدوں کی شکل میں ظاہر ہے جو صدیوں سے علم و دانش کے وسیع تر ہماری بھارتی یونیورسٹیوں یعنی نالندہ اور تکشلا کے ساتھ بھارت ماضی میں بین الاقوامی علمی مرکز رہا ہے ۔ وقت گزرنے کے ساتھ بھارت کی علمی قوت اور دولت نے مغلوں، منگولوں، برطانوی افراد، ڈچوں اور پرتگالیوں سمیت متعدد لوگوں کو متوجہ کیا جنہوں نے تاریخ کے مختلف ادوار میں بھارت پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں بھارت کے علمی خزانوں کو کافی نقصان پہنچا، تاہم یہ بات بھی ازحد مشہور ہے اور اسے تسلیم بھی کیا جاتا ہے کہ جہاں ایک جانب حملہ آوروں نے ہماری سر زمین کو لوٹا او رہماری یونیورسٹیوں کو تباہ کیا، وہیں وہ ہماری سرزمین کے گوروؤں اور یوگیوں کے سامنے شکست خوردہ ہی ثابت ہوئے ۔جہاں ایک جانب برطانیہ نے دوسرے صنعتی انقلاب کے دوران دنیا کی قیادت کی، وہیں امریکہ نے تیسرے انقلاب کی قیادت کی۔ آج بھارت برطانیہ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کی پانچویں وسیع تر معیشت بن گیا ہے ۔ یہ بہت مناسب وقت ہے کہ ہم ایک مرتبہ پھر علم کے مخزن اور مخرج کی جگہ حاصل کریں اور پوری دنیا کو نئی اور ابھرتی ہوئی تکنالوجیوں کے معاملے میں غیر معمولی نمو کی حامل چوتھے صنعتی انقلاب کی جانب گامزن کریں۔ ان متوقع تبدیلیوں کے درمیان، 2014 میں معزز وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارت کے تعلیمی نظام کو تغیر سے ہمکنار کرنے کی تصوریت پیش کی اور اسے 21ویں صدی کا عالمی علمی پاورہاؤس بنانے کی بات کہی۔ 260 ملین سے زائد اسکول جانے والے بچوں اور اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں حصول علم میں مصروف 40 ملین سے زائد طلبا کے ساتھ بھارت کا تعلیمی نظام عالمی پیمانے پر ایک وسیع تر نظام ہے ۔ حکومت سمیت تمام تر شراکت داروں کے ساتھ وسیع تر تبادلہ خیالات کے بعد 34 برسوں کے فاصلے کے بعد قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی)2020 کا آغاز کیا گیا۔ ہم 29جولائی 2023 کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ اس موقع پر ہم دو روزہ اکھل بھارتیہ شکشا سماگم [؟] تعلیم کے محاذ پر ایک مہاکمبھ، کے اہتمام کے ساتھ این ای پی کی تیسری سالگرہ منائیں گے ۔این ای پی کے گذشتہ تین برس اہم حصولیابیوں کے برس رہے ہیں۔ بھارتی تاریخ میں پہلی مرتبہ اوائل اطفال نگہداشت اور تعلیم (ای سی سی ای) کو رسمی اسکولی نظام کے تحت شامل کیا گیا ہے ۔ یہ اس بات کا اظہار ہے کہ ایک بچے کی 80 فیصد سے زائد مجموعی ذہنی نشو و نما 8 برس سے قبل وقوع پذیر ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ اولین قومی تعلیمی نصاب سے متعلق فریم ورک برائے اساسی مرحلہ (این سی ایف ۔ ایف ایس) وضع کیے جانے پر زور دیا جا رہا ہے جو کھیل پر مبنی تعلیمی سائنس ہے اور یہ نصاب 3 سے 8 برس کے بچوں کی ضروریات کی تکمیل کرے گا۔ اس فریم ورک کے تحت مختلف النوع سرگرمیاں مثلاً گفت و شنید، کہانیاں، موسیقی، فنون، صناعی، کھیل کود، فطرت کے مناظر کی سیر کرانے والے سفر، مختلف سازو سامان اور کھلونوں کے ساتھ باہم اثر پذیر کھیل پر مشتمل مختلف النوع سرگرمیاں شامل کی گئی ہیں۔