موجودہ وزیر اعلیٰ عہدہ سے مستعفی ہوں گے تو عوام خود کو محفوظ تصور کریں گے: سابق وزیر اعلیٰ
پڈوچیری ۔ پڈوچیری کے سابق وزیر اعلی اور کانگریس کے سینئر لیڈر وی نارائن سوامی نے وزیر اعلی این رنگاسوامی پر مرکز کے زیر انتظام علاقے میں کٹھ پتلی حکومت چلانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دیتے ہیں تو لوگ خود کو محفوظ محسوس کریں گے ۔ یہاں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کانگریس کے سینئر لیڈر نے کہا کہ این آر کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اتحاد نے اپنے انتخابی منشور میں کہا تھا کہ ٹیکسٹائل ملز اور کوآپریٹو اسپننگ ملز کو دوبارہ کھولا جائے گا، لیکن اب سبھی ٹیکسٹائل ملوں کو بند کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جب بھی رنگاسوامی وزیراعلی بنیں گے ، پڈوچیری میں جرائم بڑھیں گے ۔ سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس وقت قتل و غارت، لوٹ مار، چوری، زمینوں پر قبضے اور منشیات کی فروخت عروج پر ہے ۔ پولیس کے محکمے حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہیں اور لوگ غیر محفوظ ماحول میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ این آر کانگریس-بی جے پی حکومت کو سنگین مالی بحران کا سامنا ہے اور اس کے پاس مرکز سے مالی امداد لینے کی صلاحیت نہیں ہے ۔ سینئر کانگریس لیڈر نے کہا کہ اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکام) کی نجکاری کے لیے مرکز کو اپنی منظوری دے دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ بجلی کے ملازمین احتجاج کر رہے ہیں اور ڈیموکریٹک پروگریسو الائنس (ڈی پی اے ) تحریک کی حمایت کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ نجکاری سے نہ صرف ملازمین بلکہ عوام کو بھی نقصان پہنچے گا۔ نارائن سوامی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نجکاری کے سوال کا صحیح جواب نہیں دے پائے ۔ گزشتہ ایجی ٹیشن کے دوران وزیر اعلیٰ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ ملازمین اور عوام کے خیالات جانے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا، ان کی یقین دہانیوں کا کیا ہوا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کتنے کمزور وزیراعلیٰ ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اتحادیوں سے مشاورت کے بعد اس معاملے پر عدالت سے رجوع کریں گے ۔